تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 358
ہیں اور یاجوج و ماجوج کے الفاظ ایسی ہستیوں پر دلالت کرتے ہیں جو ایسی طاقت رکھیں گے کہ آتشین اسلحہ کے استعمال سے دنیا پر غلبہ پالیں گے۔اس تشریح کے بعد ہم سب سے پہلے قرآن کریم کی ان خبروں کا ذکر کرتے ہیں جو کہ یاجوج و ماجوج کے متعلق آتی ہیں۔خروج یاجوج و ماجوج کا ذکر قرآن مجید میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ(الانبیآء:۹۷) کہ ایک زمانہ تک یاجوج و ماجوج کو دنیا کے کناروں پر بند رکھا جائے گا۔اس کے بعد وہ دیوار جو ان کو روکے ہوئے ہو گی، ٹوٹ جائے گی۔یعنی اسلام کی حکومت جاتی رہے گی اور اس کا زور ٹوٹ جائے گا۔اس کی روحانی طاقت بھی کمزور پڑجائے گی اور مسلمان اپنے دین کو بھول جائیں گے۔چنانچہ اس زمانہ کی تعیین کے متعلق سورۂ سجدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔(السجدۃ:۶) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام ترقی کرے گا اورپھر جیسا کہ حدیثوں میں ہے۔تین سو سالوں کے بعد وہ کمزور ہونا شروع ہوگااور ایک ہزار سال تک برابر کمزور ہوتا جائے گا۔گویا یہ زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال بعد کا ہے۔پھرآیت حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یاجوج و ماجوج سمندر پار رہنے والی اور پہاڑوں کے پَرے رہنے والی قومیں ہیں۔چنانچہ آیت کے الفاظ یہ ہیں وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ اور حَدَبْ کے معنے لغت میں موج اور اونچی اور سخت زمین کے لکھے ہیں(اقرب)۔پس مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یاجوج و ماجوج جو سمندر پار رہنے والی اور پہاڑوں کے پَرے رہنے والی اقوام ہیں۔وقت موعود پر پہاڑوں سے اور سمندروں کی موجوں پر سوار ہوکر ایشیا میں اتر پڑیں گی۔ایشیا کا نام ہم اس لئے لیتے ہیں کہ اس جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دشمنوں کا ذکر ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ایشیا میں ہی بستی ہے۔اسی طرح سورۃ کہف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ قَوْلًا۔قَالُوْا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اِنَّ يَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُمْ سَدًّا۔قَالَ مَا مَكَّنِّيْ فِيْهِ رَبِّيْ خَيْرٌ فَاَعِيْنُوْنِيْ۠ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ رَدْمًا۔اٰتُوْنِيْ زُبَرَ الْحَدِيْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِيْۤ اُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا۔فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ