تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 357

تین ایسے واقعات جن سے لوگ زمین میں دھنسیں گے۔ایک ایسا واقعہ مشرق میں ہوگا اور ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور آخری علامت یہ بتائی کہ یمن کی طرف سے ایک آگ نکلے گی۔ان علامات میں دجّال اور یاجوج اور ماجوج کے نکلنے کا ذکر ہے او رغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت یہ دونوں فتنے آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ایک ہی فتنہ کی مختلف شاخیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں یاجوج و ماجوج کا تو ذکر آتا ہے لیکن دجال کا ذکرنہیں آتا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اہمیت زیادہ بیان فرمائی ہے۔چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں :۔ذَکَرَ الدَّجَالَ فَقَالَ اِنِّیْ لَاُنْذِرُکُمُوْہُ وَمَامِنْ نَّبِیٍّ اِلَّا اَنْذَرَقَوْمَہٗ لَقَدْ ااَنْذَرَ نُوْحٌ قَوْمَہٗ۔(کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۹۵ بحوالہ ابو داؤد و ترمذی ) یعنی دجال کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو دجال سے ہوشیار نہ کیا ہو۔نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ہوشیار کیا اور میں بھی اس کی خبر دیتا ہوں اور قوم کو ہوشیار رہنے کی تلقین کرتاہوں۔پس اتنے بڑے فتنے کا ذکر قرآن کریم میں نہ آنا اور یاجوج ماجوج کا ذکر آنا بتاتا ہے کہ در حقیقت یاجوج و ماجوج اور دجّال کا فتنہ ایک ہی چیز کے دونام ہیں یاایک ہی فتنہ کی دوشاخیں ہیں۔اس کی مزید تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ دجّال اور یاجوج وماجوج کا ایک ہی زمانہ ہے۔اور پھر یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ دونوں ساری دنیا پر غالب آجائیں گے یہ باتیں بتاتی ہیں کہ یہ دجّال اور یاجوج و ماجوج کے فتنے کوئی الگ قسم کے فتنے یا الگ زمانوں کے فتنے نہیںہیں۔بلکہ ایک ہی فتنہ کے مختلف مظاہر ہیں۔درحقیقت دجال مذہبی پہلو سے اس فتنہ کا نام رکھا گیا ہے۔دجّال کے معنے ہوتے ہیں ملمّع ساز، فریب کرنے والا۔پس آخری زمانہ کا فتنہ جس سے کہ بنو اسرائیل کے انبیاء بھی ڈراتے رہے ہیں اس کے دو حصے ہونے تھے۔ایک حصہ تو مذہبی عقائد اور مذہبی خیالات میں فساد پیدا کرنے کے متعلق تھااور ایک حصہ سیاسی حالات اور سیاسی امن کو برباد کرنے کے متعلق تھا۔جو مذہبی عقائد سے متعلق فتنہ تھا اس کے بھڑکانے والی روح کو دجّال کہا گیا ہے یعنی فریب اور دھوکا دینے والی ہستی۔اور جو فتنہ کہ سیاسی پہلوئوں کے ساتھ تعلق رکھنے والا تھا اس کے بھڑکانے والی ہستیوں کو یاجوج اور ماجوج کہا گیا ہے۔یاجوج ماجوج کے الفاظ اجیج سے نکلے ہیں اور اَجَّتِ النَّارُ اَجِیْجًا کے معنے ہیں تَلَھَّبَتْ۔آگ بھڑک اٹھی اور جب اجَّـجْتَ النَّارَ کہیں تو معنے ہوں گے اَلْھَبَتْـھَا فَالْتَـھَبَتْ کہ آگ کو بھڑکا! تو وہ بھڑک اٹھی۔( اقرب) پس لفظ اَجَّ کے معنے آگ بھڑکانے کے