تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 356
کے لئے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے۔اور انتہائی کوشش میں لگے رہنا چاہیے کہ مناسب اسباب اور ذرائع کے اختیار کرنے سے جلد سے جلد وہ مقصد حاصل ہوجائے اور پورے وثوق کے ساتھ اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جس کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہوئی ہے۔ذیل میں ہم بعض ان اخبار کا ذکر کرتے ہیں جو قرآن کریم اور حدیث میں موجودہ زمانہ کے متعلق بیان کی گئی ہیں۔اور ان کاتعلق سورۂ لہب کے مضمون کے ساتھ ہے۔تاایک مسلمان کے لئے ان کو پڑھ کر زیادتیٔ ایمان کا موجب ہو کہ کس طرح آج سے تیرہ سو سال قبل بیان کی ہوئی خبریں پوری ہورہی ہیں اور وہ یہ یقین کر لے کہ دوسری خبریں جو اسلام کی ترقی کے متعلق ہیں وہ بھی اسی طرح پوری ہوں گی جس طرح سے یہ خبریںپوری ہوئی ہیں۔سو جاننا چاہیے کہ آخری زمانہ میں اسلام نے جن مصائب اور فتنوں سے دوچار ہونا تھا ان فتنوں میں سے دووجودوں کا خاص طور پر ذکر آتا ہے۔اور ان وجودوں کے فتنوں کا خاص طور پر ذکر کرنے کی یہ وجہ ہے کہ ان سے اسلام کو خاص طور پر نقصان پہنچنا تھا۔ایک وجود کا نام دجّال رکھا گیا ہے اور دوسرے فتنہ کے دوظہور بیان کئے گئے ہیں۔ایک ظہور کا نام یاجوج اور ایک کانام ماجوج بتایا گیا ہے۔چنانچہ مسلم کی حدیث میں ہے :۔خروج دجال اور یاجوج وماجوج کے متعلق پیشگوئی عَنْ حُذَیْفَۃَ ابْنِ اُسَیْدٍ الْغَفَّارِیِّ قَالَ اِطَّلَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْنَا وَنَـحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَا تَذْکُرُوْنَ قَالُوْا نَـذْکُرُ السَّاعَـــۃَ قَــالَ اِنَّـھَا لَنْ تَــقُــوْمَ حَـتیّٰ تَـرَوْا قَـبْـلَـھَا عَـشْــرَ اٰیَاتٍ۔فَـذَکَـرَ الـدُّخَانَ وَ الـدَّجَّالَ والدَّٓآ بَّۃَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِـھَا وَنُزُوْلَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَیَاجُوْجَ وَمَاجُوْجَ وَثَلٰثَۃُ خَسُوْفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْـرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِـجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَـخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَـحْشَـرِهِمْ۔( مسلم بـحوالہ مشکوٰۃ کتاب الفتن الفصل الاول باب العلامات بین یدی الساعۃ ) یعنی حذیفہ ابن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک دن ہم چند لوگ بیٹھے قیامت کا ذکر کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جھانکا اور دریافت فرمایا کہ کیا باتیں کررہے ہو۔ہم نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کررہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس کے برپا ہونے سے قبل دس علامات کا ظاہر ہونا ضروری ہے اور آپ نے حسب ذیل علامات گنوائیں۔دخان، خروج دجال، خروج دابہ، طلوع الشمس من المغرب، نزول عیسیٰ بن مریم، خروج یاجوج و ماجوج اور