تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 355
روند ڈالا۔آج سمٹ سمٹا کر محدود علاقوں میں رہ گئی ہیں۔وہ شیر جس کے سامنے سب ممالک چوہوں کی طرح تھے۔آج وہ شیر اتنا کمزور اور ضعیف ہے کہ یہ چوہے اس کے جسم پر دوڑتے پھر رہے ہیں اور اس کو نوچتے ہیں اور شیر میں اتنی قوت نہیں کہ ان چوہوں کو بدن سے ہٹا سکے۔آج کا مسلمان بھی مایوس ہو چکا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسلام آج ہے تو کل نہیں۔اور جو کوئی یوروپین ممالک میں جاتا ہے اور وہاں کی ترقی اور عروج کوبنظرِخود مشاہدہ کرتا ہے وہ مجسم یاس اور ناامیدی بن جاتا ہے اور واپس پہنچ کر یہی پیغام دیتا ہے کہ اسلام کا اب خدا ہی حافظ ہے۔بظاہر اس کے دوبارہ ترقی کرنے کا امکان نہیں۔کیونکہ ایک طرف اس کے دشمنوں نے اس کی سیاسی طاقت کو ختم کردیا ہے اور دوسری طرف اسلام کے ماننے والوںنے خود اسلام کو خیرباد کہہ دیا اوریورپ کو اپنا امام سمجھ کر اس کی اقتدا کو فخر خیال کرنے لگ گئے اورانہوں نے یہ بھلا دیا کہ ایک مسلمان کو جو کتاب بطور مکمل ضابطہ حیات کے دی گئی ہے۔وہ اس لئے نہیں کہ یہ دوسروں سے راہنمائی حاصل کرے بلکہ اس لئے ہے تالوگ اس کے نور سے منور ہوں اور اس کی پیروی سے دین و دنیا میں فائدہ اٹھائیں۔اسلام کے عروج و زوال کی پیشگوئیاں درحقیقت اسلام کا تنزل اور یوروپین ممالک کا یہ عروج بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک زبردست دلیل ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب خبریں آج سے تیرہ سو سال پہلے بتا دی تھیںاور اتنی تفصیل سے بتائیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سینما کی فلم دکھائی جاتی ہے۔اسی طرح آپ کو وہ تمام حالات پردہ پر دکھادیئے گئے جن سے اسلام دوچار ہونے والا تھا اور ان سب واقعات کے رونما ہونے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر مہر لگادی۔کیونکہ اتنا علم غیب جتنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کبھی کسی شخص کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتا جب تک کہ خدائے عالم الغیب اس کو نہ بتائے۔پس اسلام کا یہ ضعف، یہ بے کسی اس واسطے نہیں کہ ہم گھبرا جائیں، ہم مایوس ہوجائیں بلکہ جس خدا نے اسلام کے تنزل کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی اور آپ نے اپنے صحابہ کو بتائی اور وہ لفظ بلفظ پوری بھی ہوئی۔اسی خدا کی طرف سے آپ کو ایک اور خبر بھی دی گئی اور وہ یہ کہ اسلام دوبارہ ترقی کرے گا اور اپنے دشمنوں پر غالب آئے گا اس سے ٹکرانے والے پاش پاش ہوں گے۔اور اسلام کا جھنڈا ساری دنیا پر لہرائے گا۔لیکن یہ سب کچھ خدا تعالیٰ خود کرے گا۔جس طرح کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہواتھا اسی طرح آخری زمانہ میں دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح دنیامیں آئے گی اور خدا کی نصرت اور اس کے فضل کو جذب کرے گی اور ملائکہ کی فوجیں آسمان سے اتر کر کمزوروں کو طاقتور اور سلطنتوں کا وارث بنادیں گی۔پس کسی مسلمان