تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 354
صداقت اور آپ کے منجانب اللہ ہونے کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل یہ ہے کہ جب آپ نے دعویٰ کیا اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق اعلان کیا کہ آپ جس مقصد کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں اس میں آپ بہرحال کامیاب ہوں گے۔گودنیا آپ کی مخالفت کرے گی لیکن کوئی شخص آپ کا بال تک بیکانہیں کرسکے گا۔آپ وہ کونے کا پتھر ہیں کہ جس پر آ پ گرے وہ بھی چکنا چو رہوگااور جو آپ پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ہوجائے گا۔تاریخ شاہد ہے کہ آپ کا یہ دعویٰ درست نکلا۔دعویٰ کے بعد مخالفت کے بڑے بڑے طوفان آئے لوگوں نے آپ کے قتل کے منصوبے کئے۔آپ کے متبعین کو ختم کرنے کی تدبیریں کی گئیں۔ایسے حالات میں جبکہ کامیابی کی کوئی امید نہیں ہوسکتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار یہی اعلان فرماتے کہ آپ کامیاب ہوںگے۔اسلام مغرب و مشرق میں پھیل جائے گا۔ساری دنیا آپ کے جھنڈے تلے جمع ہوگی اور پھر یہی نہیں کہ اسلام کی زبردست حکومت قائم ہوجائے گی بلکہ آخر اس پر ایک ایسا وقت آئے گا جب اسلام کے ماننے والے قرآن کریم پر عمل کرنا چھوڑدیں گے۔ان پر تنزّل وادبار آجائے گا ان کی حکومتیں ختم ہوجائیں گی اور بعض نئی برسراقتدار آنے والی قومیں اسلامی ممالک کو دبالیں گی اور اسلام بے سروسامانی کی حالت میں ہو جائے گا۔تب اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو دنیا میں دوبارہ بھیجے گا اور پھر سے اسلام زندہ ہوگا۔اور اس کے دشمن ختم ہوں گے۔اور اسلام کادوبارہ احیاء ہوگا۔یہ وہ خبریں ہیں جو قرآن کریم میں ہمیں کثرت سے ملتی ہیں اور ایسی خبریں اور ان کی تفصیلات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کے سامنے بیان فرمائیں جن میں سے بعض احادیث کی کتب میں محفوظ ہو کر ہم تک پہنچ گئی ہیں۔اور یہ سب باتیں لفظاً لفظاً پوری بھی ہو گئیں۔پس ایسے وقت میںجبکہ بظاہر کامیابی کے امکانات نظر نہیں آتے تھے۔اپنی ترقی اور اپنے عروج کی خبریں دینا اور عروج کے بعد پھر قوم کے تنزّل کی پیشگوئی کرنا اور پھر کہنا کہ اس تنزل کے بعد پھر عروج ہوگا یہ سب کچھ محض دماغ کے تصوّرات نہیں ہو سکتے۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ہی یہ سب خبریں دی تھیں تبھی تو غیر معمولی حالات میںپوری ہوئیں۔پس ان سب خبروں کا پورا ہونامحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہے اور یہ بتاتا ہے کہ آپ منجانب اللہ تھے۔آج یوروپین ممالک بام عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔ان کی تہذیب، ان کا تمدن اور ان کی ایجادات کو دیکھ کر سب دنیا دنگ ہے اور یہ لوگ خود بھی ان سب باتوں کواپنی فوقیت میں پیش کرتے ہیں۔آج ہر ملک کی نگاہ ان کی طرف اٹھتی ہے اور ہر قسم کے علوم کا منبع ان کے ممالک کو سمجھا جاتا ہے۔مسلمانوں کی وہ حکومتیں جن سے دنیا کانپ اٹھتی تھی جن کے سامنے یوروپین ملکوں کے لوگ شاگردوں کی طرح بیٹھتے تھے۔جن کے گھوڑوں نے ان کے ملکوں کو