تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 343

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت بڑے بڑے صحابہ گھبرا گئے۔حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا زبردست شخص بھی گھبرا گیا(بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب قول النبی لو کنت متخذًا خلیلًا)۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صدیقیت کے مقام پر کھڑا کردیا اور تمام مسلمان ایک ہاتھ پر جمع ہوگئے۔اور جتنے فتنے اس وقت کھڑے ہوئے ان کا مقابلہ کرنے کی قوت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دی گئی۔باوجود اس کے کہ آپ کی طبیعت نرم تھی لیکن آپ نے فتنوں کو دبانے کے لئے جو کام کیا اس کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دعائوں کے نتیجہ میںتھی جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کیں۔پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کھڑا کردیا۔چونکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اور ایرانیوں اور شامیوں کے ساتھ مٹھ بھیڑ ہورہی تھی اس لئے آپ کی وفات کو بے وقت سمجھا گیا(تاریخ ابی الفدا ذکر وفات ابی بکر) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت پر متمکن ہوتے ہی ایسی راہنمائی کی کہ مصر، شام اور فلسطین کے سارے علاقے مسلمانوں کے ماتحت آگئے اور قیصرو کسریٰ کی ساری طاقتیں ختم ہوگئیں۔اور ایک طرف مسلمانوں کی ایک مستحکم سلطنت قائم ہوگئی اور دوسری طرف مسلمان ایک ہاتھ پر اکٹھے رہے اوران میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوئی۔بلکہ آپ کی خلافت میں اسلام کا وہ رعب و دبدبہ قائم ہوا کہ مسلمان بڑے بڑے بادشاہوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کا دوسرا اثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وجود میں ظاہر ہوا۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے وجود بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کا نتیجہ تھے۔پھر حضرت عمربن عبدالعزیز اور مجدّدینِ اُمّت جو مختلف ممالک اور مختلف زمانوں میں اسلام کی حفاظت اور اسلام کی صحیح صورت کو قائم رکھنے کے لئے کھڑے ہوئے سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کی بدولت ہی تھے۔اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال بعد جب ایک طرف آپؐکےماننے والے اسلام کو چھوڑ بیٹھے اور اس پر عمل کرنا ترک کردیا اور دوسری طرف مغربی اقوام نے اسلام پر ہلّہ بول دیا اور چاہا کہ اسلام کا نام تک مٹا دیا جائے۔ایسی نازک حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کردیا اور آپؑکے ذریعہ مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت قائم کردی جو ایک طرف صحیح اسلام کا نمونہ تھی او ردوسری طرف وہ اسلام کے لئے اپنے اموال اور اپنی جانو ںکو قربان