تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 340
آپ کے متعلق ذَنْب کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن جَنَاحٌ، اِثْمٌ یا جُرْمٌ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔گناہ اسے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور قوت کے باوجود اس کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جائے اور وہ بات جس کی خدا تعالیٰ کی طرف سے طاقت ہی نہ دی جائے اس کا نہ کر سکنا گناہ نہیں ہوتا۔بلکہ وہ بشری کمزوری کہلاتی ہے مثلاً ایک شخص بیمار ہوجاتا ہے تو یہ اس کا گناہ نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے جو بشریت کی وجہ سے اسے لاحق ہوئی۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گناہ نہ تھا کہ آپؐاس قدر زیادہ لوگوں کو پڑھا نہ سکتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ نے آپؐکو بنایا ہی ایساتھا اور آپؐکے ساتھ یہ ایسی بات لگی ہوئی تھی جو آپؐکی طاقت سے بالا تھی۔اس لئے آپؐکو بتایا گیا کہ ایمان لانے والوں کی کثرت کی وجہ سے جو نقص ان کی تعلیم میں رہ جائے گا اس کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔پس وہ تمام آیات جن میں آپؐکے لئے وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گناہ کا اظہار مقصود نہیں ہے بلکہ بشری کمزوری کے بدنتائج سے بچنے کی آپؐکو راہ بتائی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ وہ بوجھ جو آپؐپر پڑنے والا ہے اور آپ کی طاقت سے زائد ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکریں کہ اس کو اٹھانے اور ذمہ داری کو پوری طرح سے ادا کرنے کی توفیق ملے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت زیادہ عرصہ نہ رہ سکے تھے۔ابتلائوں اور فتنوں کے وقت ان کا ایمان بھی خراب نہ ہوا اور وہ اسلام جیسی نعمت سے محروم نہ ہوئے۔گو آپؐکی وفات پر کچھ لوگ مرتد ہوئے مگر جلدی ہی واپس آگئے۔اور ان فسادوں میں شامل نہ ہوئے جو اسلام کو تباہ کرنے کے لئے شریروں اور مفسدوں نے برپا کئے تھے۔چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو عظیم الشان فساد ہوااس میں عراق، مصر، کوفہ اور بصرہ کے لوگ تو شامل ہوگئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایمان لائے تھے لیکن یمن، حجاز اور نجد کے لوگ شامل نہ ہوئے۔یہ وہ ملک تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں فتح ہوئے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان مُلکوں کے لوگوں کی جو آپؐکے زمانہ میں اسلام لائے تھے برائیاں اور کمزوریاں دور کردی تھیں۔لوگ تو کہتے ہیں کہ امیر معاویہ کا زور اور طاقت تھی کہ شام کے لوگ اس فتنہ میں شامل نہ ہوئے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کرامت تھی اور دعا کا اثر تھا کہ شام کے لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف نہیں اٹھے۔کیونکہ گویہ ملک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فتح نہ ہوالیکن آپؐنے اس پر بھی چڑھائی کی تھی جس کا ذکر قرآن شریف کی سورۃ توبہ میں ان تین صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے