تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 334

تک آپ دنیا میں رہے آپؐنے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا اور تربیت اور تزکیۂ نفوس کا کام کرتے رہے۔لیکن جب آپ ہمارے پاس آجائیں گے۔تو آپ کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ خود امّتِ محمدیہ کا کفیل ہو جائے گا۔ایسی صورت میںآپ کو فکر کی کیا ضرورت ہے۔ہاں آپ وہ کام کریں جو آپ کی استطاعت میں ہے اور وہ یہ کہ آپؐدعاؤں میں لگ جائیں اور اللہ تعالیٰ سے التجا کریں کہ وہ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کی حفاظت کرے اور ان کی نصرت کرتا رہے بلکہ اسلام میں نئے داخل ہونے والوں کی بھی خود ہی تربیت کا سامان کرے۔اور ایسی صورت پیدا کردے کہ تما م مسلمان ٹھوکر اور غلطیوں سے بچتے رہیں۔اور اگر کبھی کوئی رخنہ پیدا بھی ہو تو اس کی اصلاح کا سامان خدا تعالیٰ پیدا کرتا رہے۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات کے لئے استغفار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اپنی امّت کے لوگو ں کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ دعا کریں کہ وہ آپ کی اُمّت کی حفاظت فرمائے اور ان میں کوئی روحانی طور پر رخنہ نہ پڑے اور اگر کوئی خرابی پیدا ہو تو اس کی اصلاح کا سامان پیدا ہو جائے۔چنانچہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے مطابق دعا کرنی شروع کردی(درمنثور زیر آیت ھذا) اور واقعات بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشااور آپ کی وفات کے بعد جس قدر فتنے پیدا ہوئے ان کی اصلاح کر دی گئی۔اور آئندہ ایسا انتظام کر دیا گیا کہ ہرفتنے کے پیدا ہونے پر اس کی اصلاح ہو جائے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی وفات پر جب بعض قبائلِ عرب مرتد ہو گئے اور بعض نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کا ایسا سدِّ باب کیا جس کی نظیر ملنی مشکل ہے اور پھر سے اسلام صحیح شکل میں قائم ہو گیا۔اگر اس وقت اس فتنہ کو دبایا نہ جاتا تو اسلام کی صحیح شکل کا قائم رہنا مشکل امر تھا۔اسی طرح اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں جب کثرت سے عیسائی لوگ مسلمان ہوئے تو وہ اپنے ساتھ حیاتِ مسیح اور مسیحؑ کے بے گناہ ہونے اور باقی تمام انسانوں کے ( جن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آجاتے ہیں ) خطاکار ہونے کا عقیدہ بھی لے آئے اور وہ اتنا پھیلاکہ اس غلط فہمی کی وجہ سے عیسائیت کو اسلام پر حملہ کرنے کا موقع مِل گیا اور مسلمان اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں داخل ہونے شروع ہو گئے۔آخر اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کے استیصال کے لئے اور اُمّت کی حفاظت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چودہ سو سال بعد کھڑا کر دیا اور آپ کے ذریعہ اسلام کو ایسے مقام پر کھڑا کردیا کہ کجا وہ حالت کہ وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا تھا اور مسلمان اسلام کو چھوڑ رہے تھے اور کجا یہ حالت پیدا ہو گئی کہ تمام مذاہب میدان سے بھاگ گئے اور اسلام عیسائیت پر حملہ آور ہو گیا اور غیر مذاہب کے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہو نے شروع ہو گئے اور وہ