تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 332
عیسائی صاحبان بھی ہمیشہ اس قسم کی آیات کو لے کر جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوا ستغفار کا حکم دیا گیا ہے مسلمانوں پر اعتراض کرتے چلے آئے ہیں کہ دیکھو تمہارا رسول گناہ گار تھا تبھی تو ان کو استغفار کا حکم دیا گیا۔اور اس کے بعد وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ مسیح علیہ السلام کے لئے کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں ہوا اس لئے وہ گناہوں سے پاک تھے۔(A Comprehensive commentary on Quran by Wherry vol۔4 p۔292) اس اعتراض کے جواب میں مسلمانوں کو بڑی دقت پیش آئی اور گو انہوں نے جواب دینے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے اس کا جواب دینے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔اور یہی وجہ تھی کہ ہزار ہا مسلمان عیسائی بن گئے۔اور تو اور سادات میں سے بھی بعض نے بپتسمہ لے لیا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لفظ استغفار کے استعمال سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا اور بجائے اس کے کہ مسلمان عیسائیوں کو جواب دیتے وہ خود ان کے دھوکہ میں آگئے۔ان آیات کو جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استغفار کا لفظ استعمال ہوا ہے حل کرنے کے لئے یہ امراچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے آئے تھے۔اور اس دنیا میں اس لئے مبعوث کئے گئے تھے کہ تاگمراہ اور بے دین لوگوں کو باخدا انسان بنائیں اور تا گناہوں اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک و صاف کریں۔اور آپؐکا درجہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ( اٰل عمران:۳۲)۔اے ہمارے رسول! تم یہ بات لوگوں کو اچھی طرح سنا دو کہ اگر وہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ تیری اتباع کریں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے اور محبوب بن جائیں گے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ( الاحزاب:۲۲) کہ اے مسلمانو! اس رسول میں تمہارے لئے ایک نیک نمونہ ہے۔اگر تم خدا کے حضورمقبول بننا چاہتے ہو اور اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہوتو اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اس رسول کے اقوال، افعال اور حرکات و سکنا ت کی پیروی کرو۔کیونکہ آپؐکے اقوال و افعال خدا تعالیٰ کے اقوال و افعال ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے آپؐکے متعلق مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (الانفال:۱۸) کہہ کر آپؐکے کنکر پھینکنے کو اللہ تعالیٰ کا کنکر پھینکنا قرار دیا ہے۔پھر آپؐکے متعلق یہ بھی فرمایا کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى ( النجم:۴،۵) یعنی یہ نبی اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا بلکہ وہی بات کہتا ہے جو خدا تعالیٰ اس کو بذریعہ وحی حکم دیتا ہے۔پس وہ شخص جس کی اتباع سے انسان خدا