تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 326

لیتے ہوئے فرمایا کہ خدا کی قسم جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اونٹ کی ایک رسی بھی زکوٰۃ کے طور پر دیتا تھا اگر وہ اس کے دینے سے انکار کر ے گا تو آپ اس کا مقابلہ کریں گے۔آپ کے اصرار پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی آپ کی اصابتِ رائے کا اعتراف کرنا پڑا اور وہ سمجھ گئے کہ اگر آج زکوٰۃ نہ دینے کی اجازت دے دی گئی تو آہستہ آہستہ لوگ نماز روزہ کو بھی چھوڑ بیٹھیں گے اور اسلام محض نام کا رہ جائے گا۔الغرض ایسے حالات میں حضرت ابو بکرؓنے منکرین زکوٰۃ کا مقابلہ کیا اور انجام یہی تھا کہ اس میدان میں بھی آپ کو فتح اور نصرت حاصل ہوئی۔اور تمام بگڑے ہوئے لوگ راہِ حق کی طرف لوٹ آئے۔حقیقت یہی ہے کہ اگر اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے اور برگزیدہ رسول نہ ہوتے۔تو یہ حالات مسلمانوں کو مٹانے کے لئے کافی تھے لیکن کیا بات تھی کہ مسلمان آگ کے شعلوں اور موت کے منہ سے بھی نکل آئے اور ان کا بال تک بیکا نہ ہوااورہر گھڑی فتح و نصرت ان کے ساتھ رہی۔وہ یہی وعدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔کہ اے رسول اللہ آپ گھبرائیں نہیں، آپ کی قوم کی دستگیری اللہ تعالیٰ کرے گا اور اسے ہر میدان میں فتح مند کرے گا۔پھر ابھی اندرونی خلفشار ختم ہی ہوئی تھی کہ عراق میں ایرانی حکومت کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی۔ایرانی حکومت ان دنوں بڑی ترقی یافتہ حکومت تھی او راس کی فوج تربیت یافتہ اور ان کے پاس بہت سازو سامان تھا اور مسلمان ان کے مقابلے میںایسے ہی تھے جیسے باز کے مقابلہ میں چڑیا کی حیثیت ہوتی ہے۔لیکن جوں ہی عراق میں معرکے شروع ہوئے یکے بعد دیگرے ایرانیوں کو خطرناک طور پر شکست ہوئی اور ان کو پسپا ہونا پڑا۔ابھی مسلمان اس طرف سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ شام اور مصر میں رومیوں سے جنگ چھڑ گئی اور دمشق، اردن، حمص اور فلسطین میں سب طرف فوجوں کو بھیجنا پڑا اور سب طرف جنگ کے شعلے بلند ہو نے شروع ہو گئے۔ایسے نازک حالات میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے اور آپ کی وفات ہو گئی۔اللہ تعالیٰ کی نصرت نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر مسندِ خلافت پر بٹھا دیا۔آپ کے عرصہ خلافت میں سب طرف جنگ کا میدان گرم رہا اور ان جنگوں میں بعض اوقات مسلمانوں میں سے ایک ایک آدمی نے اپنے مخالفوں میں سے ایک ایک ہزار کا مقابلہ کیا اور مخالفوں کی لاکھوں کی تعداد میں آنے والی فوج کو چند ہزار مسلمانوں نے روند ڈالا اور وہ ہرمیدان سے کامیاب و کامران آئے۔اور ایران اور روم جیسی عظیم الشان ترقی یافتہ سلطنتوں کے پرخچے اڑا دئیے۔اور مصر، شام، فلسطین اور ہندوستان کی سرحد سے لے کر شمالی افریقہ تک اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانۂ خلافت شروع ہوااور