تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 325
کہ ایسے حالات میں ایک اچھا دلیر اور مضبوط دل والا انسان بھی گھبرا جاتا ہے۔لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دل پر اللہ تعالیٰ نے ایسی سکینت اور اطمینان نازل کیا کہ آپ گھبرائے نہیں اور آپ اسی وثوق اور یقین پر تھے کہ خدا کے وعدے بہر حال پورے ہوں گے۔زمین و آسمان بے شک ٹل جائیں لیکن خدا کی باتیں نہیں ٹل سکتیں۔اور اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کی آیت ان کی ڈھارس کو باندھے ہوئے تھی۔چنانچہ صحابہ کرام نے ان مخدوش حالات میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ حضرت اسامہ ؓ بن زید کو موتہ کی مہم کے لئے نہ بھجوایا جائے اور سب سے پہلے ان فتنوں کا تدارک کیا جائے جو اندرون عرب پیدا ہو گئے ہیں۔یعنی مرتدین اور زکوٰۃ کے منکرین کا فتنہ اور جھوٹے مدعیان کا فتنہ۔مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سختی سے صحابہؓ کی بات کا انکار کر دیا اور فرمایاکہ جس لشکر کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کیا تھا اس کو روکنے کا حق ابو بکر کو کہاں ہو سکتا ہے۔وہ لشکر بہر حال اپنی مہم پر روانہ ہو گا۔خواہ مدینہ کی یہ حالت ہو جائے کہ اس پر دشمن ٹوٹ پڑیں اور ہماری لاشوں کو درندے گھسیٹ رہے ہوں(البدایۃ والنـھایۃ فصل فی تنفیذ جیش اسامۃ بن زید) یہ فقرات اس شخص کی زبان سے ہی نکل سکتے ہیں جو اس یقین سے پُر ہو کہ اسلام کا غالب آنا خدا کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے اور یہ تقدیر ٹل نہیں سکتی خواہ ساری دنیا ہی اس کے مقابلہ کے لئے آکھڑی ہو۔غور کریں کہ یہ یقین اور یہ ثبات اور یہ دلیری حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہاں سے حاصل ہو گئی۔یہ محض اس خدا نے آسمان سے نازل کی تھی جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے وقت تسلی دی تھی کہ آپ گھبرائیں نہیں آپ کے بعد ہر لمحہ خدا کے فرشتے نصرت اور فتح کو لے کر اتریں گے۔یہاں تک کہ اسلام کا علَم ساری دنیا پر لہرا جائے گا۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی خلافِ مرضی حضرت اسامہؓ بن زید کو لشکر سمیت موتہ کی طرف روانہ کر دیا۔چنانچہ چالیس دن کے بعد یہ مہم اپنا کام پورا کر کے فاتحانہ شان سے مدینہ واپس آئی۔اور خدا کی نصرت اور فتح کو نازل ہوتے سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔پھر اس مہم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جھوٹے مدعیان کے فتنے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس فتنہ کی ایسی سرکوبی کی کہ اس کو کچل کر رکھ دیا اور یہ فتنہ بالکل ملیا میٹ ہو گیا۔بعد ازاں یہی حال مرتدین کا ہوا۔جو لوگ زکوٰۃ کے منکر تھے ان کی تعداد کافی تھی اور صحابہ کبار بھی ان سے لڑنے کے بارے میں حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کر رہے تھے۔اور کہتے تھے کہ جولوگ توحید اور رسالت کا اقرار کرتے ہیںاور صرف زکوٰۃ دینے کے منکر ہیں ان پر کس طرح سے تلوار اٹھائی جا سکتی ہے۔اس موقع پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نہایت جرأت اور دلیری سے کام