تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 319

اس خدا نے ہی آپؐکو یہ باتیں بتائی تھیں۔اور اس قسم کی باتیں دوتین نہیں بلکہ بیسیوں ہیں۔جن سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے اور ایک غیر متعصب انسان جب ان باتوں پر ادنیٰ سابھی غور کرتا ہے تو اس کے منہ سے بے ساختہ یہ نکل پڑتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔پھر جنگِ احزاب کو ہی لے لو۔اس میں سب قبائلِ عرب مدینہ میں حملہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوگئے۔مسلمان ان کے مقابلے میں کچھ حقیقت نہیں رکھتے تھے۔لیکن مسلمانوں کی حفاظت ہوئی اور ان کے مخالفین خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور مسلمانوں کا بال تک بیکا نہ ہوا۔ان سب حالات کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں دی گئی۔جب کہ یہ قیاس بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ آپؐہجرت کریں گے اور پھر ہجرت کے بعد مقابلے ہوں گے اور عرب اپنی ساری طاقت سے مسلمانوں کو تباہ کر نے کے لئے جمع ہو جائیں گے۔مگر وہ پسپا ہوں گے چنانچہ ان سارے حالات کو سورۃ قمر میں جو مکی سورۃہے سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔اس جنگ میں اپنے بچائو کے لئے مسلمان خندق کھودرہے تھے اور ایک جگہ پتھر آگیا اور وہ ٹوٹتا نہیںتھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی۔آپؐخود توڑنے کے لئے تشریف لائے اور آپؐنے کدال مارا اور پتھر سے آگ نکلی تو آپؐنے زور سے اللہ اکبر کہا۔پھر دوسرا کدال مارا تو پھر آگ نکلی اور آپؐنے اللہ اکبر کہا۔پھر تیسرا کدال مارا اورآگ نکلی تو آپؐنے اللہ اکبر کہا اور پتھر ٹوٹ گیا۔لوگوںنے سوال کیایا رسول اللہ آپ نے اللہ اکبر کیوں کہا؟ فرمایا پہلی دفعہ مجھے کسریٰ کے محلات دکھائے گئے اور مجھے جبریل نے بتایا کہ میری امت ان پر قابض ہوگی۔اور دوسری مرتبہ روم اور شام کے سرخ محلات کا مجھے نظارہ کر ایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ بھی میری امت کے قبضہ میں آئیں گے۔پھر تیسری مرتبہ صنعاء کے محلات مجھے دکھائے گئے اور بتایا گیا کہ یہ بھی مسلمانوں کو ملیں گے۔( کامل ابن اثیر الاحداث فی السنۃ الـخامسۃ و البدایۃ والنـھایۃ غزوۃ خندق) الغرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت میں فتوحات کی خبریں دیں جبکہ یہ باتیں قیاس میں بھی نہیں آسکتی تھیں۔پھر اس کے بعد ایسے حالات بھی پیش آئے جن میں بظاہر فتح کا سوال نہ تھا۔بلکہ قیاس سے کام لینے والے منافق یہ کہتے تھے مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا(الاحزاب:۱۳) کہ محمد رسول اللہ کے سب وعدے محض فریب ہی تھے۔اسی طرح منافق کہتے تھے۔يٰۤاَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا۔(الاحزاب:۱۴) کہ اے مدینہ والو! اب تمہارے لئے زمین تنگ ہو گئی ہے تم اپنے آپ کو ختم سمجھو۔تم عرب قبائل کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔