تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 316
جب وہ یہ فیصلہ کرتے کہ سورۃ نصر فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی تھی۔کیونکہ ان کے نزدیک اس آیت کا مصداق فتح مکہ کا واقعہ تھا(فتح البیان تفسیر سورۃ النصر)۔پس وہ اس بات پر مجبور ہو گئے کہ یہ قرار دیں کہ سورۃ نصر کا نزول فتح مکہ سے پہلے ہوا تھا۔وگرنہ اس کے بغیر ان کی تفسیر درست قرار نہ پاسکتی۔حالانکہ یہ کوئی ضروری نہیں تھا کہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ میں اَلْفَتْحُ سے مراد فتح مکہ ہی لی جاتی۔کیونکہ فتح مکہ کی خبر قرآن کریم کی بعض دوسری آیات میں بڑی وضاحت سے آچکی ہے۔اس لئے اس فتح کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کسی خاص سورۃ کے نازل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی مثلاًاللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ( القصص:۸۶) یعنی اے محمد رسول اللہ تیرا خدا تجھے پھر مکہ میں واپس لائے گا۔اور یہ ظاہر ہے کہ وہ مکہ جس پر آپؐکے دشمنوں کا قبضہ تھا۔اس میں آپ اسی صورت واپس آسکتے تھے جبکہ وہ فتح ہو۔اسی طرح آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ دعا سکھلائی گئی کہ رَبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا ( بنی اسـرآءیل:۸۱) اب گو یہ ایک دعا ہے مگر الہامی دعا ہے۔اور الہامی دعا وہی ہو سکتی ہے جو واقعات کے مطابق ہو۔بہر حال اس میں یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ الٰہی ! میرا مکہ سے نکلنا بھی میری کامیابی کا موجب ہو اور ایسا نشان ہو جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہو اور میرا مکہ میں واپس آنا بھی میری کامیابی کا موجب ہو اور ایسا نشان ہو جو ہمیشہ قائم رہے۔پس فتح مکہ کی خبر چونکہ سورۃ نصر کے نزول سے بہت عرصہ پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جا چکی تھی اس لئے ہمارے لئے کوئی مجبوری نہیں کہ ہم سورۃ نصر کو فتح مکہ پر چسپاں کریں۔اور اس لحاظ سے بھی ہم فتح مکہ پر اس کو چسپاں نہیں کرسکتے کہ روایات سے ثابت ہے کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب نازل ہوئی تھی۔پس درحقیقت اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کے زمانہ کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ یہ فتوحات جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی ہیں ان کا سلسلہ صرف آپؐکی حیات تک محدود نہیں بلکہ آئندہ بھی ان کا سلسلہ جاری رہے گا۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قیصرِ روما سے جنگ چھڑی اور پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کسریٰ اور قیصر کو مکمل طور پر شکست ہوگئی۔پس اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ میں ان فتوحات کا ذکر تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓکے زمانہ میں ہونے والی تھیں۔اور یہی فتوحات آپؐکی تسلّی اور تشفی کا زیادہ موجب ہو سکتی تھیں کیونکہ انسان جب وفات کے قریب پہنچتا ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ میرا کام میری وفات کے بعد بھی جاری رہے گا یا نہیں۔پس سورۃ نصر میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ