تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 306
کے خلاف کر رہا ہوگا تو وہ دعانہیں کر سکے گا۔پس ایک مسلم کے روزمرہ کے اصول جن پر اس کے کام سرانجام پارہے ہیں وہ اور ہیں اور دوسرے مذاہب والوں کے اور۔غیر مذاہب والے نہ جائز طریقوں کو دیکھتے ہیں نہ ناجائز کو۔ان کی ساری توجہ اسی طرف ہوتی ہے کہ کسی طرح سے ان کا مقصد حاصل ہو خواہ کسی ذریعہ سے ہو۔اور خواہ اس ضمن میں ہزاروں لوگوں کی جانیں تلف ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کو تکلیف پہنچے۔لیکن اسلام اس بات سے منع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ۔(بخاری کتاب الایـمان باب المسلم من سلم المسلمون۔۔۔۔)کہ مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام لوگ محفوظ رہیں اور ان کو کسی قسم کا دکھ نہ پہنچے۔پس مسلمان اپنے روزمرہ کے کام اس نقطہ کو مدّ ِنظر رکھ کر کر رہا ہے کہ کسی کو دکھ نہ پہنچے اس کے مقابل پر کافر نہ اس کا دھیان رکھتا ہے اور نہ اس چیز کو کوئی اہمیت دیتاہے۔پس ان حالات میں مسلمانوں کا لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کہنا بالکل برمحل ہوگا۔دسویں معنے اَلدِّیْن کے اَلشَّاْنُ کے ہیں۔اور اَلشَّاْنُ کے معنے لغت میں اَلْـخَطْبُ الْعَظِیْمُ کے لکھے ہیں۔( اقرب) یعنی اہم کام، بہت بڑی مہم۔اس مفہوم کے اعتبار سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے معنے یہ ہوں گے کہ اے منکرو! تمہارے لئے بھی تمہارا ایک اہم مقصد ہے اور میرے لئے بھی میرا ایک اہم مقصد ہے۔تمہارے مدّ ِنظر بھی ایک سکیم او رمہم ہے اور میرے مدّ ِنظر بھی ایک سکیم اور مہم ہے اور ہر دو سکیموں اور مقصدوں میں بہت بڑا فرق ہے۔اس لئے ہمارا اجتماع ناممکن ہے۔کافروں کا اہم مقصد کیا ہے؟ صرف یہ کہ لوگ رسم ورواج کے پیچھے چلیں۔لیکن قرآن کریم اس بات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ رسم ورواج کچھ چیز نہیں بلکہ رسم و رواج کی تقلید ایک جہالت کی بات ہے۔اس کے مقابل پر مسلمانوں کا اہم مقصد یہ ہے کہ تمام دنیا پر توحید پھیل جائے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین پر پوری طرح قائم ہو جائے۔اس کی نازل کردہ شریعت پر تمام لوگ چل پڑیں اور مشرق ومغرب اور شمال و جنوب کے رہنے والے سب کے سب ایک ہی نقطۂ مرکزی پر جمع ہوجائیں۔ایک ہی معبود ہو اور ایک ہی رسول ہو اور ایک ہی شریعت۔اور سب لوگ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر لے لیں۔تادنیا جنگوں کی لپیٹ سے نکل کر امن کا گہوارہ بن جائے اور صرف ذاتی فوائد، خاندانی عزت اور قومی اور ملکی کوششوں کو ترک کر کے عالمگیر فوائد کے لئے سب انسان مل کر کوشش کریں اور ایک طرف ان کا اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق ہو اور دوسری طرف بنی نوع انسان کے حقوق پوری طرح ادا ہوں۔