تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 27

ایسا مضمون پیدا ہوتا تھا جو ایک منکر کو ایک حدتک امید دلاتا تھا کہ یہ وعدہ آئندہ ضرور پورا ہو گا۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے ایک مذہبی آدمی کے لئے تو یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ ایک شخص جو راستباز ہے دھوکے باز نہیں عقلمند ہے پاگل نہیں۔قانع ہے لالچی نہیں کسی غیرمنطقی اور غیر عقلی عقیدہ کا قائل نہیں۔اپنے ہوش و حواس میں یہ اعلان کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے یہ بات کہی ہے۔ایک مذہبی آدمی تو ان حالات میں مجرد خدا تعالیٰ کا نام لے کر دعویٰ کرنے کوہی مدعی کی سچائی کی دلیل سمجھتا ہے، چنانچہ حضرت ابو بکر اور حضرت خدیجہ اور حضرت علی اور حضرت زید رضوان اللہ علیھم اجمعین نےمجرد یہ دعویٰ سن کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے آپ کے دعویٰ کو قبول کر لیا اور کوئی مزید دلیل طلب نہیں کی اسی طرح اور کئی لوگوں نے اس دلیل سے فائدہ اٹھایا۔ایک اعرابی سلیم الطبع آپ کا دعویٰ سن کر مدینہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ فرمائیے کہ کیا آپ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اس جواب کو سن کر وہ آپ پر ایمان لے آیا۔پس مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو نے کا یا خدا تعالیٰ کے وعدہ کا ذکرکرے تو ایک مذہبی آدمی کے لئے یہ دلیل ہی کا فی ہو تی ہے اور اس کی فطرت اسے نہیں مان سکتی کہ مذکورہ بالا حالات میں کوئی شخص جھوٹا دعویٰ کرے گا یا غلط دعویٰ کرے گا اور یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی۔مگر اس فطرت صحیحہ کےمالک شخص سے اتر کر ایک گروہ ایسا بھی ہوتا ہے جو مزید روحانی ثبوت چاہتا ہے۔یہ مزید روحانی ثبوت اس طرح پید اہوتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے تو اس زمانہ کے نیک اور اعلیٰ درجہ کے مانے ہوئے لوگوں میں سے متعددافراد کے دل میں اس کی محبت پیدا کر دی جاتی ہے اور وہ اسے قبول کرلیتے ہیں یابعض شواہد سے متاثر ہو کر بعض ایسے لوگ جو پہلے نیکی میںمعروف نہ تھے اسے قبو ل کر لیتے ہیں۔لیکن اس کو قبول کرتے ہی ان کی ایسی کایا پلٹ جاتی ہے کہ وہ اس دنیا میں چلتے پھرتے فرشتے نظر آنے لگتے ہیںاور عقل سلیم رکھنے والے کو ماننا پڑتا ہے کہ ان کا فرشتہ بن جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ فرشتے ان کے ساتھ ہیں اور ان کے ملکوتی تأثرات ان پر نازل ہو رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بھی حاصل تھی۔ابو بکر رضی اللہ عنہ کو تو پہلے ہی مکہ کے لوگ فرشتہ سمجھتے تھے(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام اسلام ابی بکر الصدیقؓ) مگر بہت سے ایسے لوگ جوبد اعمالیوں اور فتنہ و فساد اور ظلم میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے جب ان کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت گھر کر گئی تو انہوں نے یک دم اپنے حالات کو بدل دیا اور ایک دن میں عابد و زاہد اور متقی اور حلیم اور