تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 305

ہو اور بتوں سے ڈرتے ہو۔اس لئے جبکہ دونوں کا ڈر مختلف ہستیوں سے ہے اور دونوں کی امید مختلف ہستیوں سے ہے تو ہماری اجتماعی عبادت اکٹھی کس طرح ہو سکتی ہے۔تم اپنے اعمال میں بتوں کی خوشنودی مدّ ِنظر رکھو گے۔یعنی جو تمہارے باپ دادا نے ڈھکونسلے بنا رکھے ہیں کہ بتوں سے ان ان باتوں میں ڈرناچاہیے اوران ان باتوںمیں ان سے امید رکھنی چاہیے۔تم اس کی پیروی کرو گے اور میں اپنے تمام اعمال میں اس امر کو مدّ ِنظر رکھوں گا کہ الٰہی کلا م کے مطابق کن کن باتوں سے خدا تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور کن کن باتوں سے وہ ناراض ہوتا ہے۔پس تمہارا اور میرا اتحاد فی العبادۃ کس طرح ہو سکتا ہے۔نویں معنے اَلدِّیْن کے اَلْـحَال کے ہیں اس مفہوم کے اعتبار سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے یہ معنے ہوں گے کہ تمہاری حالت اور ہے اور میری حالت اور۔یعنی میرے روز مرہ کے کام اور اصول پر سرانجا م رہے ہیں اور تمہارے روزمرہ کے کام اور اصول پر ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کُلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَمْ یُبْدَأْ بِبِسْمِ اللہِ فَھُوَ اَبْتَرُ۔یعنی ہر کام جو اللہ کا نام لے کر نہ شروع کیا جائے وہ بے نتیجہ ہوتاہے۔گویا ہر کام میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا کیونکہ اس کی مدد کے بغیر انسان ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔اور اگر اس کی مددشامل حال ہو تو ایک کمزور آدمی بھی بہت کچھ کر جاتاہے۔پھر بسم اللہ کا حکم ہر کام سے پہلے دے کر گویا ایک مسلمان کو یہ بتایا گیا ہے کہ اس کی ہر حرکت خدا تعالیٰ کے لئے ہونی چاہیے۔کیونکہ برے کام سے پہلے تو کوئی بھی بِسْمِ اللّٰهِ نہیں پڑھے گا۔لازماً بِسْمِ اللّٰهِ ایسے ہی کام کے متعلق پڑھی جائے گی جس میں اللہ کی ذات بندہ کے ساتھ شریک ہو سکتی ہے۔پس اس حکم کے ذریعہ سے ان تمام بدیوں کی جن کے لوگ مرتکب ہوتے ہیں روک تھام ہو جائے گی۔جب کوئی مسلمان بِسْمِ اللّٰهِ پڑھے گا اور اس کا برا ارادہ ہوگا تو فوراً اسے یاد آجائے گا کہ اس کو تو خدا تعالیٰ نے اس کا م سے روکا ہو اہے۔اس لئے وہ لازماً اس سے رُک جائے گا اور ناجائز کاموں کی طرف قدم نہیں بڑھائے گا۔پھر بنی نوع انسا ن کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے عفو اور رحم کو مدّ ِنظر رکھے گا۔کیونکہ اللہ کی صفات رحمٰن اور رحیم اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ بندے بھی اس کی مخلوق کے ساتھ رحم کا معاملہ کریں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کام کے لئے دعائیں سکھلائی ہیں۔ان سے ایک طرف تو انسان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رہتی ہے اور وہ دست درکار و دل بایار کا مصداق ہو جاتا ہے۔دوسرے اس میں یہ حکمت ہے کہ کسی مسلمان کو کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو۔کیونکہ اگر وہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کے حکم