تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 304

اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کے متبعین اور دوسری قومیں اس بات کو ضروری نہیں سمجھتیں۔اور نہ اس کو ملحوظ رکھتی ہیں۔بلکہ اپنے ساتھی کے ساتھ خواہ وہ ظالم ہی ہو مل جاتی ہیں۔اور اس کو غالب کرنے کی پوری کوشش کرتی ہیں۔لیکن اسلام کی یہ تعلیم نہیں بلکہ وہ کہتا ہے کہ کبھی بھی ایسے لوگوں کے ساتھ جو ظالم ہوں تعاون نہ کیا جائے۔اور اگر کوئی ظالم ہو تو اس کو ظلم سے روکا جائے۔اور جو مظلوم ہو اس کی مدد کی جائے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :۔اُنْصُـرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا فَقَالَ رَجُلٌ یَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنْصُـرُہٗ اِذَا کَانَ مَظْلُوْمًا اَفَرَءَیْتَ اِذَا کَانَ ظَالِمًا کَیْفَ اَنْصُـرُہٗ قَالَ تَـحْجُزُہٗ اَوْ تَـمْنَعُہٗ مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّ ذَالِکَ نَصْـرُہٗ۔(بخاری کتاب الاکراہ باب یمین الرجل لصاحبہ) یعنی اے مسلم تیرا فرض ہے کہ تُو اپنے بھائی کی ہر حالت میں مددکر خواہ وہ ظالم ہویا مظلوم۔ظالم ہونے کی صورت میں اس کے ہاتھ کو ظلم سے روکا جائے اور اس کو جہنم کی آگ سے بچایا جائے اور مظلوم کی امداد کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کیا جائے۔عام طور پر لوگ اس اصول پر نہیں چلتے۔بلکہ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔لیکن اسلام کا یہ سنہرا اصل زرّیں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ نظام کے ساتھ ساتھ نیکی اور تقویٰ کے پھیلانے کے لئے کوششیں ہونی چاہئیں۔جوتحریک نیکی پھیلانے کی ہو اس کے ساتھ تعاون ہو اور کوشش کی جائے کہ تمام لوگ اس میں شامل ہو جائیں۔اور اگر کوئی تحریک نقصان رساں اور ضرر والی ہو تو قطعاً اس کے ساتھ تعاون نہ کیا جائے۔پس جن لوگوں کا نقطۂ نظر یہ ہو کہ جس بات میں کوئی فائدہ دیکھو اُدھر ہو جائو۔خواہ اس میں دوسرے لوگوں پر ظلم ہی ہوتا ہو۔ان کے ساتھ مسلمان کیونکر شامل ہوسکتے ہیں۔ساتویں معنے اَلدِّیْن کے اَلْوَرَع کے ہیںاور آٹھویںمعنے اَلْمَعْصِیَۃُ کے ہیں۔وَرَعَ کے معنے تقویٰ کے ہیںاور اَلْمَعْصِیَۃُ کے معنے ہوتے ہیں اطاعت سے نکلنا اور کسی امر کی خلاف ورزی کرنا۔گویا وَرَعَ اور مَعْصِیَۃ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔لیکن چونکہ اَلدِّیْن کے معنے جزا سزا کے بھی ہیں۔اورجزا نیکی پر ملتی ہے اور سزا بدی پر۔اس لئے دِیْنٌ کے معنے تفصیلی رنگ میں وَرَع اور مَعْصِیَۃ کے کر دیئے گئے ہیں۔مذکورہ بالا معنوں کے اعتبار سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کا مفہوم یہ ہوگا کہ تمہارے لئے تمہار اطریق تقویٰ ہے اور میرے لئے میرا طریق تقویٰ ہے۔یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتا ہوں اور تم خدا تعالیٰ کی توحید کے منکر