تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 303
فرماتا ہے :۔اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۔( المآئدۃ:۴) اے مسلمانو میں نے تمہاری شریعت کو مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو پورا کر دیا ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کر لیا ہے۔پس اسلام کا دعویٰ ہے کہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں اس کی شریعت مکمل ہے اور جن امور کو دوسرے مذاہب نے چھؤا تک نہیں، اسلام نے ان کی جزئیات تک کو بیان کردیا ہے۔اور ایک مسلمان کے لئے جن امور میں راہنمائی کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ان سب کو مفصل طور پر واضح کر دیا اور ابدالآباد کے لئے اسے اور شرائع سے مستغنی کر دیا۔الغرض ایک مسلم اپنی اعلیٰ شریعت کی موجودگی میں رسم و رواج کی باتوں پر چلنے والوں یا غیر مکمل اور ناقص تعلیم رکھنے والوں کے ساتھ عبادت میں کیونکر شامل ہو سکتا ہے اور اس کی ان کے پاس جا کر کیسے تسلّی ہو سکتی ہے۔دوسرا حصہ ملّۃ کے لفظ کا قومیت اور جتھے بندی کے مفہوم پر مشتمل ہے۔کسی ملک یا قوم کے افراد کے اندر خواہ کتنی ہی ذمہ داری کا احساس ہو جب تک کسی کام کو اجتماعی رنگ میں نہ کیا جائے اس وقت تک عظیم الشان نتائج نہیں پیدا ہو سکتے۔اسلام نے اس نقطہ کو بار بار پیش کیا ہے اور امت محمدیہ کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا ایک ہاتھ پر جمع رہنا ضروری ہے۔تاکہ تم اس مقصد اور ذمہ داری کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہے اجتماعی رنگ میں کوشش کر سکو۔ہماری نماز میں بھی اسی سبق کو دہرایا گیا ہے۔چنانچہ جب تک ایک امام نہ ہو نماز نہیں ہوتی۔اسی طرح اجتماعیت کی ہدایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۔( اٰلِ عمران:۱۰۴) یعنی اے مسلمانو! خدا کی طرف سے نازل کردہ شریعت کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ ہی تم ایک ہاتھ پر جمع رہو اور تمہارے اندر تفرقہ پیدا نہ ہو بلکہ اجتماعی رنگ ہو۔تا تمہاری کوششیں صحیح ثمر لا سکیں۔پس اسلام نظام اور اجتماعی زندگی پر زور دیتا ہے اور اس بات کا حکم دیتا ہے کہ یہ ہر حال میں قائم ہونی چاہیے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ارشاد فرماتا ہے :۔تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ( المآئدۃ:۳) یعنی تمہاری اجتماعی کوششیں نیکی کے پھیلانے پر صرف ہونی چاہئیں اور اس بات پر توجہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کے دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔اور گناہ اور ظلم اور بدی کے کاموں میں ہر گز کسی کی مدد نہ کی جائے۔