تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 301

خلاصہ کلام یہ کہ اسلام کے پیش کردہ نظام حکومت اور کفار کے نظامِ حکومت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اوّل الذکر اگر قائم ہو جائے تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے اور ثانی الذکر دنیا کے امن کا ضامن نہیں ہو سکتا۔اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ جن فریقوں کے اصول میں اتنا بیّن فرق ہو وہ کبھی متحد فی العبادۃ نہیں ہوسکتے۔تیسرے معنے دِیْن کے اَلسِّیْرَۃُ کے ہیں اور سِیْرَۃُ الاِنْسَانِ کی تشریح کرتے ہوئے لغت میں لکھا ہے کَیْفِیَّۃُ سُلُوْکِـــــہٖ بَیْنَ النَّاسِ۔( اقرب ) یعنی انسا ن کی سیرۃ کے یہ معنے ہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔اس مفہوم کے لحاظ سے آیت لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کی یہ تشریح ہو گی کہ اے منکرو! تمہارے لوگوں سے معاشرت کے طریق اور ہیں اور اسلام کے معاشرت کے طریق اور۔اور یہ مسلمانوں اور ان کے مخالفوں کا ایک اہم اختلاف ہے۔اس اختلاف کے ہوتے ہوئے کبھی دونوں فریق متحد فی العبادۃ نہیں ہو سکتے۔اسلام کی رُو سے جو نیک سلوک دوسرے لوگوں سے کیا جائے وہ بھی عبادت کہلاتا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے منہ میں ثواب کی نیت سے لقمہ ڈالے تو اس کا بھی خدا تعالیٰ ایسا ہی بدلہ دے گا جیسا کہ صدقہ کا( بخاری کتاب الوصایا باب ان یترک ورثتہ اغنیاء۔۔۔۔۔) یعنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا بھی عبادت سمجھا جائے گا۔پس اسلام کی رُو سے بنی نوع انسان سے نیک سلوک بھی عبادت کا حصہ ہے اور جب اسلام کی تعلیم بنی نوع انسان سے نیک سلوک کرنے کے متعلق دوسروں سے مختلف ہے تو لازماً مسلمان اس قسم کی عبادت میں غیر مسلموں کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا۔کیونکہ وہ اسلامی حسن سلوک کے قائل نہیں۔چوتھے معنے دین کے تدبیر کے ہیں اور لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کا مفہوم ان معنوں کے اعتبار سے یہ ہوگا کہ اے منکرو ! ہمارا اور تمہارا اتحاد فی العبادۃ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ تمہاری تدبیر اور ہماری تدبیر میں بہت فرق ہے۔تمہاری تدبیر اور رنگ کی ہے اور ہماری تدبیر اور رنگ کی۔یہ ظاہر ہے کہ اس دنیا میں ہر فرد کچھ نہ کچھ جدو جہد اور تدبیر کرتا ہے۔کبھی اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کو راضی کرے اور اس کی مشیت کو دنیا میں جاری کرے اور یہ تدبیر عبادت کہلاتی ہے۔کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کی مشیت کو قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے تدبیر ہوتی ہے اور اس میں خود اپنا نفس اور خاندان بھی مدّ ِنظر ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں وَلِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقٌّ۔(بخاری کتاب الصوم باب من اقسم علی اخیہ) یعنی خدا تعالیٰ نے ایک مسلم پر بعض ذمہ داریاں اس کے اپنے نفس سے حسن سلوک کے لئے ڈالی ہیں اور کچھ ذمہ داریاں بیوی سے حسن سلوک کے لئے بھی ڈالی ہیں اور کچھ ذمہ داریاں اپنے پڑوسی