تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 296

ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی وقت واپس آئے اور راستے میں نہایت غم سے کہتے جاتے تھے کہ عمر ! معلوم نہیں تو نے اس قانون سے کتنے عرب بچوں کا دودھ چھڑا کر آئندہ نسل کو کمزور کرایا ہے۔ان سب کا گناہ اب تیرے ذمہ ہے۔یہ کہتے ہوئے آپ سٹور میں آئے اور دروازہ کھولا اور ایک بوری آٹے کی اپنی پیٹھ پر اٹھا لی۔کسی شخص نے کہا کہ لائیے میں اس بوری کو اٹھا لیتا ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔نہیں غلطی میری ہے اور اب ضروری ہے کہ اس کاخمیازہ بھی میں ہی بھگتوں۔چنانچہ وہ بوری آٹے کی انہوں نے اس عورت کو پہنچائی اور دوسرے ہی دن حکم دے دیا کہ جس دن بچہ پیدا ہو اسی دن سے اس کے لئے غلّہ مقرر کیا جائے کیونکہ اس کی ماں جو اس کو دودھ پلاتی ہے زیادہ غذا کی محتاج ہوتی ہے۔(تاریـخ ابن خلدون مترجم اردو جلد ۳ صفحہ ۳۶۴) اب دیکھو یہ انتظام اسلام نے شروع دن سے ہی کیا ہے گویہ نظام زیادہ دیر جاری نہیں رہا۔مگرا س میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں جتنے بڑے بڑے کام ہیں ان میں یہی قانون پایا جاتا ہے کہ وہ کئی لہروں سے اپنی بلندی کو پہنچتے ہیں۔ایک دفعہ وہ دنیا میں قائم ہو جاتے ہیں تو کچھ عرصہ کے بعد پرانے رسم ورواج کی وجہ سے مٹ جاتے ہیں۔مگر دماغوں میں ان کی یاد قائم رہ جاتی ہے اور ایک اچھا بیج دنیا میں بویاجاتاہے اور ہر شریف اور منصف مزاج انسان تسلیم کرتا ہے کہ وہ اچھی چیز تھی مجھے دوبارہ اس چیز کو دنیا میں واپس لانا چاہیے۔پس گویہ نظام ایک دفعہ مٹ گیا مگر اب اسی نظام کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنے کے لئے احمدیت کا درخت لگایا گیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب تمام دنیا اس کے شیریں اثمار کھا کر لذت حاصل کرے گی اور دنیا سے بھوک اور دکھ مٹ جائیں گے اور دنیا جنت کا نمونہ ہوگی۔پھر اسلامی حکومت کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ دوسروں کے ملک پر طمع کی نظر نہ رکھے۔چنانچہ فرمایا :۔وَ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ( طٰہٰ:۱۳۲) یعنی اے مسلم تُو اپنی آنکھیں دنیاوی منافع کی طرف جو تمہارے سوا دوسری اقوام کو ہم نے دیئے ہیں اٹھا اٹھا کر نہ دیکھ اور تیرے رب نے جو تجھے دیا ہے وہی تیرے لئے اچھا ہے اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے۔یعنی مرنے کے بعد بھی وہی کام آئے گا اور جو دوسری اقوام پر تعدّی کر کے مال لو گے تو وہ نفع نہیں دے گا اور نہ قائم رہے گا۔گویا اسلام آج کل کی حکومتوں کے طریق عمل کے خلاف اس بات سے روکتا ہے کہ یوں ہی دوسرے ممالک پر حملہ کرکے ان کو اپنے قبضہ میں لیا جائے۔ہاں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر اسلامی حکومت پر حملے ہوں یا حملوں کا خطرہ ہو تو اس کا دفاع کیا جائے ( الحج:۴۱،۴۲) نیز یہ حکم دیا گیا ہے کہ سرحدیں مضبوط رکھی جائیں (اٰل عـمران :۲۰۱)