تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 295
گذارہ کے لئے دے دیا جایا کرے ( اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ جس کے پاس زمین نہیں صرف اسی کی مدد کر نی چاہیے۔بلکہ جس کی زمین ہو اور وہ تباہ ہو جائے یا فصل ہو اور وہ تباہ ہو جائے۔وہ بھی بمنزلہ اس کے ہوگا جس کی زمین نہیں کیونکہ نتیجہ میں وہ اس کے مشابہ ہے جس کی زمین نہیں ) پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں جب نظام مکمل ہوا۔تو اس وقت اسلامی تعلیم کے ماتحت ہر فرد بشر کے لئے روٹی اور کپڑا مہیا کرنا حکومت کے ذمہ تھا اور وہ اپنے اس فرض کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا کرتی تھی۔حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس غرض کے لئے مردم شماری کا طریق جاری کیا اور رجسٹرات کھولے جن میں تمام لوگوں کے ناموں کا اندراج ہوا کرتا تھا۔یورپین مصنّفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پہلی مردم شماری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی اور انہوں نے ہی رجسٹرات کا طریق جاری کیا۔اس مردم شماری کی وجہ یہی تھی کہ ہرشخص کو روٹی کپڑا دیا جاتا تھا اور حکومت کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس بات کا علم رکھے کہ کتنے لوگ ملک میں پائے جاتے ہیں۔آج یہ کہا جاتا ہے کہ سویٹ رشیا نے غرباء کے کھانے اور ان کے کپڑے کا انتظام کیا ہے حالانکہ سب سے پہلے اس قسم کا اقتصادی نظام اسلام نے جاری کیا تھا۔اور عملی رنگ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہرگائوں، ہر قصبہ اور ہر شہر کے لوگوں کے نام رجسٹر میں درج کئے جاتے تھے۔ہر شخص کی بیوی اس کے بچوں کے نام اور ان کی تعداد درج کی جاتی تھی اور پھر ہر شخص کے لئے غذا کی بھی ایک حد مقرر کر دی گئی تھی۔تا کہ تھوڑا کھانے والے بھی گذارہ کر سکیں اور زیادہ کھانے والے بھی اپنی خواہش کے مطابق کھا سکیں۔(تاریـخ الیعقوبی ایام عمر بن الـخطاب) تاریخوںمیں ذکر آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں جو فیصلے فرمائے ان میں دودھ پیتے بچوںکا خیال نہیں رکھا گیا تھا اور ان کو اس وقت غلّہ وغیرہ کی صورت میںمدد ملنی شروع ہوتی تھی جب مائیں اپنے بچوں کا دودھ چھڑا دیتی تھیں۔ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے گشت لگا رہے تھے کہ ایک خیمہ میں سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آئی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں ٹھہر گئے۔مگر بچہ تھا کہ روتا چلا جاتا تھا اور ماں اسے تھپکیاںدے رہی تھی کہ وہ سوجائے جب بہت دیر ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس خیمہ کے اندر گئے اور عورت سے کہا کہ تم بچے کو دودھ کیوں نہیں پلاتیں یہ کتنی دیر سے رورہا ہے؟ اس عورت نے آپ کو پہنچانا نہیں۔اس نے سمجھا کہ کوئی عام شخص ہے۔چنانچہ اس نے جواب میں کہا کہ تمہیں معلوم نہیں۔عمر نے فیصلہ کر ایا ہے کہ دودھ پینے والے بچہ کو غذا نہ ملے۔ہم غریب ہیں ہمارا گذارہ تنگی سے ہوتا ہے میں نے اس بچے کا دودھ چھڑا دیا ہے تاکہ بیت المال سے اس کا غلّہ بھی مل سکے۔اب اگریہ روتا ہے تو روئے عمر کی جان کو جس نے ایسا قانون بنایا