تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 291
۵۔قومی معاملات مشاورت سے طے ہوں۔۶۔حکومت ہر ایک شخص کے لئے خوراک، لباس اور مکان مہیا کرنے کی ذمہ دار ہو۔۷۔دوسروں کے ممالک پر طمع کی نظر نہ رکھی جائے۔جنگ صرف دفاعی ہو۔۸۔مفتوح کے ساتھ عدل کا سلوک کیا جائے۔۹۔جنگی قیدیوں کو خاص طور پر مراعات دی جائیں۔۱۰۔معاہدات کی پابندی کی جائے۔۱۱۔ملک میں مذہبی آزادی قائم کی جائے۔یہ وہ اصول ہیں جن کو اسلام نے حکومت کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔چنانچہ پہلے چار اصولوں کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا (النسآء:۵۹) یعنی اے لوگو اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جب تمہیں موقعہ ملے کہ تم حکومت کی امانتیں کسی کے سپرد کرو۔تو یاد رکھو کہ تم یہ امانتیں ہمیشہ ان لوگوں کے سپرد کرو جو تمہارے نزدیک حکومت کے اہل ہوں۔اور جن کے اندر یہ قابلیت پائی جاتی ہو کہ وہ حکومتی کاموں کو عمدگی سے سرانجام دے سکیں۔اور جب اے حاکمو!تم حاکم ہو جاؤ تو تم انصاف کے ساتھ حکمرانی کرو۔اللہ تعالیٰ جس امر کی تم کو نصیحت فرماتا ہے وہ بہت اچھا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔اس آیت میں پہلے تو عامۃ الناس کو مخاطب کیا ہے کہ حاکم بنانا تمہارا کام ہے اور تمہارے اختیار میں ہے۔تمہارے سوا اور کوئی شخص حاکم بنانے کا مجاز نہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص زبردستی حاکم بن جائے اور پھر وراثۃً حکومت چل پڑے۔یہ طریق درست نہیں اور نہ کسی شخص کا حق ہے کہ محض کسی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے لوگوں کی گردنوں پر حکومت کا جؤا رکھے۔دوسرا امر یہ بتایا کہ یہ حکومت کے حقوق ایک قیمتی چیز ہیں جس طرح کہ امانت قیمتی ہوتی ہے پس فرقہ وارانہ جذبات سے علیحدہ ہو کر اس امانت کو حق دار کے سپرد کرنا چاہیے۔کسی ایسے شخص کے سپرد نہ کرنا جو اس کے قابل نہ ہو۔اور یہ مدّ ِنظر نہ ہو کہ یہ شخص ہماری پارٹی کا نہیں ہے۔اس لئے ہم اس کو یہ امانت نہیں دیں گے بلکہ اس شخص کے سپرد کرو جو دیانت داری سے امانت کی حفاظت کر سکے۔تیسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ چونکہ حکومت کوئی مستقل چیز نہیں ہے بلکہ ان حقوق کو کسی شخص کے سپرد کر دینے کا نام