تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 288

علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں اور نیک اعمال بجا لانے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرورملک میں بادشاہ بنا دے گا۔وہ ایسی شان اور عظمت رکھنے والے بادشاہ ہوں گے جیسے پہلی منعم علیہ قوموں میں ہوئے ہیں۔ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اسلام کے اعلیٰ اور افضل احکام جاری کر دے گا اور اس وقت جو مسلمانوں کی خوف کی حالت ہے یا آئندہ جو بھی خوف کی حالت پیدا ہو گی اس کو امن میں بدل دے گا۔یہ بادشاہ میری عبادت کو دنیامیں قائم کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔پس ان انعامات کے بعد جو میری نعمتوں کی ناشکری کرے گا اور صحیح طریق حکومت کو چھوڑ کر غلط راستہ اختیار کرے گا وہ فاسق ہو گا۔مذکورہ بالا آیت میں مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ یعنی وہ ان کو ملک میں خلفاء بنادے گا۔خلفا ء خلیفہ کی جمع ہے اور خلیفہ کے معنے ہیں:۔۱۔مَنْ یَّـخْلُفُ غَیْرَہٗ وَ یَقُوْمُ مَقَامَہٗ یعنی جو کسی کے قائم مقام ہو کر وہی کام کرے جو اصل وجود کام کر رہا ہوتا ہے۔۲۔وَالسُّلْطَانُ الْاَعْظَمُ۔سب سے بڑا بادشاہ۔۳۔وَ فِی الشَّـرْعِ الْاِمَامُ الَّذِیْ لَیْسَ فَوْقَہٗ اِمَامٌ اور شرعی اصطلاح میں خلیفہ اس امام کو کہتے ہیںجس کے اوپر اس زمانہ میں کوئی امام نہ ہو(اقرب) پھر اَلْـخِلَافَۃُ کے معنے کرتے ہوئے اقرب الموارد میں لکھا ہے :۔۱۔اَلْاِمَارَۃُ۔یعنی خلافت کے ایک معنے حکومت کے ہیں۔۲۔اَلنِّیَابَۃُ عَنِ الْغَیْرِ اِمَّا لِغَیْبَۃِ الْمَنُوْبِ عَنْہُ اَوْ لِمَوْتِہٖ۔کہ خلافت کے معنے ہیں کسی کا نائب اور قائم مقام ہو کر وہی کام کرنا جو اصل وجود کام کر رہا تھا۔اور یہ نیابت یا تو اس لئے ہو کہ اصل وہاں موجود نہیں یا اصل وفات پا گیا ہے۔اب اس کے کام کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔(اقرب) پس لغت کے ان معنوں کے لحاظ سے لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ کے مندرجہ ذیل معنے ہوں گے :۔۱۔اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور ملک میں بہت بڑے خلفاء اور بادشاہ بنادے گا۔۲۔یہ بادشاہت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں ہو گی۔یعنی جو کام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر انجام دے رہے ہیں۔وہی کام ان کو سر انجام دینا ہوگا۔الغرض مومنوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں حکومت عطا کرے گا اور وہ حکومت بھی الٰہی منشاء کے