تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 287
دوسری حکومت سے معاہد ہ کرتے ہو تو اس کی پروا نہیں کرتے اور جب تمہیں اپنا مفاد ضائع ہوتا نظر آتا ہو تو وہاں فوراً معاہدہ کو توڑ دیتے ہو۔تمہارے پاس کوئی ایسے صحیح قوانین اور ٹھوس ذرائع نہیں جن سے تمہارے اپنے ملک کے اندر اور تمہارے ہمسایہ ملکوں میں امن برقرار رہ سکے۔ہم تو ایسی جابرانہ حکومتوں کے خلاف ہیں اور ہم ان سے لوگوں کو آزاد کروا کر ایسی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی مرضی کے عین مطابق ہو۔وہ اپنے ملک کی نمائندہ ہو اپنے ما تحتوں کی ضروریات کا پوری طرح خیال رکھے۔لوگ اس کے ماتحت رہنا فخر و عزت خیال کریں۔اس میں حاکم و محکوم کے درمیان کوئی خلیج حائل نہ ہو۔وہ اپنے معاہدوں کی پابندی کرنے والی ہو۔اور صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ اپنے ہمسایہ ملکوں میں بھی امن کو قائم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہو۔پس اس اختلاف کے ہوتے ہوئے ہمارے اور تمہارے درمیان اتحاد فی العبادۃ کیونکر ہو سکتا ہے۔تمہاری عبادت کے نتیجہ میں دنیا میں ظلم کے راستے کھلتے ہیں اور میری عبادت ظلم کے راستوں کو بند کرتے ہوئے امن کی علمبردار ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب سورۃ کافرون نازل ہوئی تھی۔اس وقت تو مسلمانوں کی حالت نہایت کمزور تھی اور وہ مکہ میں جا بجا ماریں کھاتے پھرتے تھے۔اس وقت مسلمانوں کو یہ خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ ہم ایسی حکومت قائم کر لیں گے جو امن کا گہوارہ ہو اور جنت کا نمونہ ہو۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک مسلمانوں کی حالت نہایت ضعف کی تھی اور ان کے مخالفین پورے جوبن پر تھے۔عرب میں قبائلی حکومت تھی اور عرب سے باہر دواہم طاقتیں تھیں(۱)کسریٰ ایران کی طاقت(۲)اور قیصر روم کی طاقت۔لیکن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ شروع سے ہی بتا دیا تھا کہ جلد ہی مسلمانوں کی ضعف کی حالت طاقت میں تبدیل ہو جائے گی اور وہ ساری دنیا پر چھا جائیں گے اور مسلمان اس وعدے پر پورا یقین اور وثوق رکھتے تھے اور اس دن کو قریب سمجھتے تھے جب ان کی ایک ایسی طاقتور حکومت قائم ہوجائے گی جو جبر و استبداد کا قلع قمع کر کے دنیا میں امن قائم کردے گی۔چنانچہ مسلمانوں کے ساتھ جو یہ وعدہ کیا گیا تھا۔اس کا ذکر واضح الفاظ میں سورۂ نور میں (جو مدینہ میں نازل ہوئی) کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ (النور:۵۶) کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ