تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 286
پس اسلام مذہبی آزادی کا قائل ہے۔وہ اپنی تعلیم اور عبادت کو دلائل قویہ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش تو کرتا ہے لیکن اس پر چلانے کے لئے جبر و اکراہ کا قائل نہیں اور اگر کوئی ایسی تعلیم کو قبول کرلینے کے بعد پھر اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تو اس پر کسی قسم کی گرفت نہیں کرتا۔لیکن مشرکین اس کے مقابل پر اپنی عبادت کو ڈنڈے کے زور سے منواتے اور اس پر کاربند ہونے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔اور اگر کوئی ان کی عبادت سے نفرت کرتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے تو اس کی جان لینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔اَلسُّلْطَانُ کے دوسرے معنے اَلتَّسَلُّطُ کے ہیںاس معنے کے اعتبار سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کی یہ تشریح ہوگی کہ اے منکرو! تمہارا تسلط کا طریق اور ہے اور میرا تسلط کا طریق اور۔تمہارے تسلط کے نیچے حریت ضمیر باقی نہیں رہتی لیکن میرے تسلط میں حریت ضمیر کو قائم کیا جاتا ہے۔ان دو متضاد نظریوں کے ساتھ ہم عبادت کس طرح اکٹھے کر سکتے ہیں۔تم تو خدا سے یہ دعا کرو گے کہ الٰہی ہم کو اپنے مخالفوں پر غلبہ بخش تاکہ جبراً ان کا مذہب بدلوا دیں اور میں یہ دعا کروں گاکہ الٰہی مجھے منکروں پر غلبہ بخش تاکہ میں حریت ضمیر کا اعلیٰ نمونہ پیش کرسکوں۔پھراللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ (الـحجر:۴۳) کہ میرے بندوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوتا۔یعنی غیر مومنوں پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ جن پر شیطان کا تسلط ہو جائے وہ دوسروں پر غالب آکر شیطانی تسلط کو قائم کریں گے۔پس تسلط کے اس معنے کے مدّ ِنظر لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے یہ معنے بھی ہوں گے کہ میں خدا کا تسلط دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہوں اور منکرین اسلام شیطان کا تسلط قائم کرتے ہیں پس دونوں فریق متحد فی العبادۃ کس طرح ہو سکتے ہیں۔(۲)جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے لفظ دِیْن کے ایک معنے اَلْمُلْکُ وَالْـحُکْمُ یعنی بادشاہت اور حکومت کے ہیں اس مفہوم کے لحاظ سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے یہ معنے ہوں گے کہ اے اسلام کے منکرو! تمہارا طریق حکومت اور اصول حکومت اور ہے اور میرا طریق حکومت اور اصول حکومت اور ہے یعنی تمہارے ہاں استبداد جائز ہے لیکن میرے نزدیک ہر فرد کو حکومت میں رائے دینے کا حق ہے اور انتخاب کا طریق جائز ہے۔تم لٹھ بازی سے کام چلاتے ہو اور اپنے جتھوں کے سہارے ملکوں پر قبضہ کر لیتے ہو۔تمہاری حکومتیں اوّل تو نیا بتی نہیں ہوتیں اور اگر کہیں ہوں بھی تو سارے ملک کی نمائندہ نہیں ہوتیں۔تم اپنی حکومتوں میں اپنے ما تحتوں کے حقوق کا پوری طرح خیال نہیں رکھتے اور اس وجہ سے ہمیشہ تمہارے خلاف ملکوں میں بغاوتیں ہوتی رہتی ہیں اور ر عایا اور حکومت کی چپقلش رہتی ہے۔تم میں سے جب کوئی حاکم ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مقام کو عام لوگوں سے بہت بلند خیال کرنے لگتا ہے تم لوگ جب کسی