تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 279

قرآن کریم نے ایسی تمام باتوں کی سختی سے مخالفت کی ہے۔کیونکہ اس کا پیش کردہ اصل یہ ہے کہ ہر بات حکمت کی بنا پر ہونی چاہیے تاکہ اس پر عمل کرتے ہوئے دل میں بشاشت پیدا ہو۔اور اوہام کی باتوں کی اطاعت اکراہ اور جبر سے ہوتی ہے نہ کہ بشاشت سے۔(۳) پھر مشرکین کے عقائد کے خلاف اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہماری زندگی صرف اس دنیا کی نہیں بلکہ مرنے کے بعد ایک غیر منقطع زندگی ملے گی۔اور موت درحقیقت اس دنیا سے اگلی دنیا میں نقل مکانی کا نام ہے اور یہ دنیا مزرعۃ الآخرۃ ہے یعنی جیسے جیسے اعمال کئے ہوں گے ویسا ہی بدلہ ہمیں ملے گا۔جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے۔بہرحال وہ شخص جو حیاۃ بعد الموت کا قائل نہیں اس کے اعمال محض محدود دائرہ کے لئے ہوں گے اور ان کے کرنے سے اس میں بشاشت پیدا نہ ہوگی۔لیکن ایک مومن جو حیاۃ الآخرۃ کو مانتا ہے اس کے اعمال قربانی پر منحصر ہوں گے اور اس کے اندر بشاشت ہو گی۔پس حیاۃ بعد الموت کا عقیدہ مومن کو بشاشت سے اعمال بجا لانے کے لئے ایک خاص تقویت بخشتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے اس عقیدہ کو بار بار پیش کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ(التوبۃ:۷۲) یعنی مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ مرنے کے بعد ان کو ایسی جنات عطا کی جائیں گی جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے اور بہترین رہنے کی جگہیں انہیں دی جائیں گی اور یہ باغات اور نہریں ہمیشہ کے لئے ہوں گی نہ کہ عارضی۔پس اسلام اس نظریہ کو پیش کرتا ہے کہ صرف اس دنیا کی زندگی نہیں بلکہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی ملے گی اور اصل زندگی وہی ہے اور یہ کہ اس کے لئے اس دنیامیں اعمال بجا لانے چاہئیں۔چنانچہ فرمایا :۔وَ مَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ (العنکبوت:۶۵) کہ یہ دنیا تو عارضی ہے اور اصل زندگی تو بعد از موت حاصل ہو گی۔کاش لوگ اس بات کو جان لیں۔ان تمام امور کے علاوہ اسلام ایسے خدا کو پیش کرتا ہے جو سراپا محبت ہے۔وہ اپنے عبادت گذاروں کی دعائیں سنتا اور ان کی مشکلات کے وقت ان کے مصائب کو دور کرتا ہے اور اپنے محبت بھرے کلام سے دلوں کو اطمینان بخشتا ہے۔جیسے فرمایااَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْٓءَ (النمل:۶۳) کہ اللہ کے سوا وہ کون سی ہستی ہے جو