تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 24

ہیں۔ڈپٹی کمشنر بن جائے تو ان کی جان نکل جاتی ہے۔لیکن ہم تجھے وہ نعمت دیں گے جو آدمؑ سے لے کر آج تک کسی کو نہیں ملی اور نہ قیامت تک کسی کو ملے گی۔تجھ پر دنیا حسد کرے گی اور تیرے راستہ میں بڑی بڑی روکیں پیداکرے گی۔لیکن ہم تمہیں اس کا علاج بھی بتادیتے ہیں فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ تو نماز پڑھ اور قربانی دےپھر تو کامیاب رہے گا اسی طرح اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کا تعلق بھی نہر سے نہیں۔اس کا تعلق بھی کسی دنیوی کوثر سے ہی ہوسکتا ہے۔کیونکہ اگر کوثر اخروی ہو تو پھر دشمن کے ابتر ہونے کا پتہ بھی اگلے جہان میں ہی لگے گااور کوئی دشمن اس دلیل کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتاکہ چونکہ اگلے جہان میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر ملے گا اس لئے ان کا دشمن وہاں ابتر رہے گا۔یہ جملہ صاف بتا تا ہے کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ اس دنیا میں ثابت ہو گا اور چونکہ یہ نتیجہ ہے کوثر ملنے کااس لئے کوثر بھی اسی دنیا میں ملنا چاہیے۔ورنہ جو چیز دنیا میں موجود ہی نہیں اس پر ابو جہل کو کس طرح حسد ہو سکتا تھا۔اسے اگر آپ کہتے کہ مجھے جنت میں نہر ملے گی تو ابو جہل کہتا میں تو جنت کا قائل ہی نہیں میں نے حسد کیا کرنا ہے۔حسد تو انہی انعامات پر ہو سکتا تھا جو آپ کو دنیا میں ملے۔سو انہی انعامات کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تجھے وہ کچھ دیں گے کہ تیرے دشمن ہر وقت انگاروں پر لوٹتے رہیں گے مگر اس کے ساتھ ہی ہم تجھے اس کا علاج بھی بتا دیتے ہیں جو یہ ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۔تو نماز پڑھ اور قربانی دے اس طرح تو دشمنوں کے حسد سے محفوظ رہے گا اور ہمارے فضلوں کے زیر سایہ ترقی کرتا چلا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خیر کثیر ملا انسان کے لئے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے جس کو خدا تعالیٰ کوثر کہے جو کثیر سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔تو اس کے اندازہ کی بندے میں طاقت ہی کہاں ہو سکتی ہے۔پس کوثر کی تفسیر کرنا انسان کے لئے ناممکن ہے۔نہ کوئی کوثر کی تفسیر بیان کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی تفسیر لکھ سکتا ہے یہ تو خدا تعالیٰ ہی بیان کرے تو کرے۔لیکن چند مثالیں تقریب مفہوم کے لئے بیان کی جا سکتی ہیںاور انہی کو ذیل میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی۔تفسیر۔اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَکے جملہ کو اِنَّا کے لفظ سے شروع کرنے کی وجہ اس سورۃ کو اِنَّا کےساتھ شروع کیا گیا ہے جو اِنَّ اور نَا سےبنا ہے۔اِنَّ تاکید کے لئے آتاہے اور نَا جمع کا صیغہ ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ جو یہ کلام کر رہا ہے واحد ہے۔’’نا‘‘کےمعنے ہو تے ہیں ’’ہم‘‘ اور ’’نی‘‘ کے معنے ہیں ’’میں‘‘ پس بظاہر یہاں اِنَّا کی بجائے’’اِنِّیْ‘‘ کہنا چاہیے تھا کیونکہ قرآن کریم جس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے وہ واحد اور لاشریک ہے۔مگر بجائے اَنَا یعنی ’’میں‘ ‘کہنے کے اِنَّا کہا گیا ہے یعنی یقیناً ’’ہم نے‘‘ ایسا کیوں کیا گیا؟ اس میں