تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 23

وَانْحَرْ کاحکم نہ دیا گیا اور نہر ملنے پر یہ حکم دے دیا گیا۔کیا یہ بات کسی انسان کی عقل میں آ سکتی ہے؟ آخر خدا تعالیٰ سے مقدّم اور کون سی چیز ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس وقت جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے آپ کا سر حضرت عائشہ ؓکے سینہ پر تھا اور حضرت عائشہ ؓ نے آپ کو سہا را دیا ہوا تھا تاکہ آپ کو سانس کی تکلیف نہ ہو۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں آپ کی وفات سے پہلے میں یہ خیال کیا کرتی تھی کہ وفات کے وقت جسے زیادہ تکلیف ہو تی ہے وہ بڑا گناہ گار ہو تا ہے۔لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نزع کے وقت تکلیف ہوئی تو میں نے اپنے آپ کو ملامت کی اور میں نے سمجھ لیا کہ اس کا ایمان یا عدمِ ایما ن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں (بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیّ )۔بہر حال حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا ت کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا اِلَی الرَّفِیْقِ الْاعْلٰی۔اِلَی الرَّفِیْقِ الْاعْلٰی۔میں خدا کے پاس جا رہا ہوں، میں خدا کے پاس جا رہا ہوں۔اس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اِلَی الْکَوْثَرْ میں کوثر کے پاس جا رہا ہوں۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت بھی جس خواہش کا اظہار فرمایاوہ لِقاءِ الٰہی تھی۔مگر لِقاءِ الٰہی کی نعمت ملنے پر تو آپ کو صلوٰۃ و نحر کا حکم نہ دیا گیا اور جنت کی نہر ملنے پر یہ حکم دے دیا گیا۔کیا اس نہر کوکوئی چھین سکتا تھا کہ اس کے لئے قربانیوں کی ضرورت تھی یا نمازوں اور دعاؤں کی ضرورت تھی۔یا کیاجنت کی نہر ان روحانی انعامات سے بڑھ کر تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے کہ اس کے شکریہ میں صلوٰۃ و نحر کا حکم دے دیا گیا؟ آپ پر قرآن کریم نازل ہوا، آپ کونبوت ملی، آپ کو ختم نبوت ملی، آپ کو تمام نبیوں کی سرداری ملی۔یہ بڑے بڑے انعامات تھے جو آپ پر نازل ہوئے۔نہر اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہے؟ مگر مفسرین کے خیال کے مطابق آپ کو نفل پڑھنے کا حکم ملا تو ایک نہر کے لئے۔حالانکہ شکریہ کے نفل بڑے انعاموں کے لئے پڑھے جاتے ہیں نہ کہ چھوٹے انعاموں کے لئے؟ یہ امور بتا رہے ہیں کہ اس آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ جنت میں ایک نہر ملنے کے نتیجہ کے طور پر تُو نماز پڑھ اور قربانی دے۔بلکہ مراد یہ ہے کہ کوثر ملنے کے نتیجہ میں جو مشکلات پید اہو نے والی ہیں ان سے بچنے کے لئے ہم یہ حکم تجھے دیتے ہیں اور در حقیقت اسی کوثر کے راستہ میں روک ہو سکتی تھی جو دنیا سے تعلق رکھتا ہو اور انسان و شیطان اس میں روک بن سکتے ہوں۔اُخروی کوثر کے راستہ میں تو نہ انسان روک بن سکتا ہے نہ شیطان اور چونکہ یہ کوثر دنیا سے تعلق رکھتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم تجھ پر بڑے بڑے انعامات نازل کرنے والے ہیں۔اور جسے بڑے بڑے انعامات ملا کرتے ہیں اس کے لوگ دشمن ہو جاتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اسے ان انعامات سے محروم کر دیں۔دنیا میں کوئی تحصیلدار بن جائے تو لوگ اس پر حسد کرنے لگ جاتے