تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 270

کیا ہو گا؟ ایسے لوگوں کی تسلی کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ (الزّمر:۵۴) اے ہمارے رسول ! ان لوگوں کو اچھی طرح کھول کر سنا دے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کمزوریوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور وہ نکل نہیں سکتے اور اب ان کے لئے نجات کا دروازہ بند ہو چکا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔اللہ کی شان تو ایسی ہے کہ خواہ کس قدر کمزوریاں کیوں نہ سرزد ہو چکی ہوں۔ان سب سے درگذر کر سکتا ہے ان سب کو معاف کر سکتا ہے اور نجات کا دروازہ کھول سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ انسانی اندازوں سے بڑھ کر پردہ پوشی کرنے والا اور بے حد و حساب رحمت کرنے والا ہے اس کی رحمت بہت وسیع ہے اس کا اندازہ کرنا ناممکن ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہر مقام کے لوگوں کے لئے اپنی رحمت کو پیش کیا ہے اور مایوس ہونے سے روکا ہے۔اور فرمایا ہے کہ ہر شخص خدا کی رحمت کو حاصل کر سکتا ہے کیونکہ اصل چیز اس کی صفات میں سے رحمت ہی ہے۔احادیث میں آتا ہے اِنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَۃً وَ تِسْعِیْنَ نَفْسًا فَسَئَلَ عَنْ اَعْلَمِ اَھْلِ الْاَرْضِ فَدُلَّ عَلٰی رَاھِبٍ فَاَتَاہُ فَقَالَ اِنَّہُ قَتَلَ تِسْعَۃً وَ تِسْعِیْنَ نَفْسًا فَھَلْ لَّہُ مِنْ تَوْبَۃٍ فَقَالَ لَا۔فَقَتَلَہُ فَکَمَّلَ بِہٖ مِائَۃً ثُمَّ سَئَلَ عَنْ اَعْلَمِ اَھْلِ الْاَرْضِ فَدُلَّ عَلٰی رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ اِنَّہُ قَتَلَ مِائَۃَ نَفْسٍ فَھَلْ لَّہُ مِنْ تَوْبَۃٍ فَقَالَ نَعَمْ وَمَنْ یَّحُوْلُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَ التَّوْبَۃِ۔اِنْطَلِقْ اِلٰی اَرْضٍ کَذَا وَکَذَافَاِنَّ بِھَااُنَاسًایَّعْبُدُوْنَ اللّٰہَ تَعَالٰی فَاعْبُدِ اللہَ مَعَھُمْ وَلَا تَرْجِعْ اِلٰی اَرْضِکَ فَاِنَّـھَا اَرْضُ سُوْءٍ۔فَانْطَلَقَ حَتّٰی اِذَا نَصَفَ الطَّرِیْقَ اَتٰہُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِیْہِ الْمَلٰٓـئِکَۃُ الرَّحْـمَۃِ وَمَلٰٓـئِکَۃُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلٰٓـئِکَۃُ الرَّحْـمَۃِ جَآءَ تَائِبًا مُقْبِلًا اِلَی اللہِ تَعَالٰی وَ قَالَتْ مَلٰٓـئِکَۃُ الْعَذَابِ اِنَّہُ لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَـــــطُّ۔فَاَتٰـھُمْ مَّلَکٌ فِیْ صُوْرَۃِ اٰدَمِیٍّ فَـجَعَلُوْہُ بَیْنَـھُمْ فَقَالَ قِیْسُوْا مَا بَیْنَ الْاَرْضَیْنِ فَاِلٰی اَیَّتِھِمَا کَانَ اَدْنٰی فَھُوَ لَہُ فَقَاسُوْہُ فَوَجَدُوْہُ اَدْنٰی اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ اَرَادَ فَقَبَضَتْہُ مَلٰٓـئِکَۃُ الرَّحْـمَۃِ(ریاض الصالـحین باب التوبۃ)۔وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحِ فَکَانَ اِلَی الْقَرْیَۃِ الصَّالِـحِ اَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَـجُعِلَ مِنْ اَھْلِھَا(صحیح مسلم کتاب التوبۃ باب قبول توبۃ القاتل و ان کثر قتلہ)۔وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحِ فَاَوْحَی اللّٰہُ تَعَالٰی اِلٰی ھٰذِہٖ اَنْ تَبَاعَدِیْ وَ اِلٰی ھَذِہٖ اَنْ تَقْرِبِیْ وَقَالَ قِیْسُوْا مَا بَیْنَـھُمَا فَوُجِدَ اِلٰی ھٰذِہٖ اَقْرَبُ بِشِبْرٍ فَغُفِر لَہُ۔(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حدیث الغار) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلے زمانہ میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے وہ توبہ