تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 269

اسی اصل کے ماتحت اسلام نے توبہ کے مسئلہ کو پیش کیا ہے۔کہ اگر کسی وقت انسان سے کوئی کمزوری سرزد ہوجائے تو ضروری نہیں ہے کہ اس کی سزاہی بھگتے۔بلکہ اگر اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور آئندہ کے لئے وہ اپنی اصلاح کا اقرار کرے اور ایسی کمزوریوں سے بچنے کا تہیہ کر لے تو اس کی کمزوریوں کی بنا پر ترقیات کے جو دروازے بند ہو جاتے ہیں وہ پھر کھول دیئے جاتے ہیں اور انسان نیچے کی طرف نہیں جاتا بلکہ اوپر کی طرف اٹھتا ہے۔اس اصل کو پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا۠ لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۔اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ ( اٰلِ عـمران: ۱۳۶،۱۳۷) یعنی وہ لوگ جو کسی وقت خدا کے احکام کی نافرمانی کر بیٹھتے ہیں اور اس ذریعے سے اپنے نفسوں کا حق مار دیتے ہیں۔لیکن اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اور اپنی اصلاح کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو گناہوں سے اور کمزوریوں سے بچا سکے۔یہ جملہ معترضہ ہے۔آگے فرماتا ہے وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۔وہ خدا تعالیٰ سے اپنی کمزوریوں پر پردہ پوشی چاہتے ہیں اور اپنے اس گناہ پر اصرار نہیں کرتے اور جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمزوریوں پر پردہ پوشی فرما کر ان کے لئے رحمت کے دروازے کھول سکتا ہے۔ان لوگوں کی جو اس نکتہ کو سمجھتے ہیں یہ جزا ہو گی کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں پر پردہ ڈال دے گا اور ان کے لئے اپنی رحمت کے دروازے بند نہیں کرے گا اور وہ نجات پا کر خدا تعالیٰ کو پا لیں گے اور ان کو مغفرت حاصل ہو جائے گی اور رہنے کو ایسے باغا ت ملیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور یہ انعام عارضی نہیں ہوگا۔بلکہ وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے اور محنت کرنے والوںکا بدلہ اچھا ہی ہوتا ہے۔دیکھو کیسی اعلیٰ اور شاندار تعلیم ہے۔انسان کے لئے مایوسی کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں اور اسے یقین دلایا گیا ہے کہ وہ ہر وقت ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہ سکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے اندر احساس صحیح پیدا کرے۔انسان کے دل میں یہ خیال آسکتا تھا کہ ممکن ہے خدا تعالیٰ ایک دو کمزوریوں کو تو نظر انداز کردے لیکن اگر کسی انسان سے بہت سی کمزوریاں سر زد ہو چکی ہوں اور اس نے اپنے خیال میں نجات کا دروازہ اپنے لئے بند کر لیا ہو تو اس کا