تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 268
کہ وہ ایشور نجات پانے والی روح کا کوئی گناہ پوشیدہ طور پر رکھ لیتا ہے اور اس کو علت قرار دے کر پھر اس روح کو مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے۔کیونکہ کسی گناہ کے لئے ہندو دھرم میں عفو کی گنجائش نہیں اور نہ کسی نیکی کے بدلہ میں زیادہ یا غیر محدود بدلہ دیا جا سکتا ہے۔اس لئے ویدک دھرم میں مکتی کو بھی محدود مانا گیا ہے۔یہی حال عیسائی مذہب کا ہے۔عیسائیوں کا اعتقاد ہے کہ حضرت آدم نے گناہ کیا اور ان کے گناہ کی وجہ سے ساری نسل آدم گناہ گار قرار پائی اور ہر پیدا ہونے والا بچہ آدم زاد ہونے کی وجہ سے گناہ سے ملوث ہوتا ہے کیونکہ وہ آدم کا وارث ہے۔عیسائیوں کے نزدیک ورثہ کا یہ گناہ خدا کے عفو کی چادر کے نیچے نہیں آسکتا جب تک اس کا بدلہ ادا نہ کیا جائے۔عیسائی جب ساری نسل آدم کو گناہ گار مانتے ہیں تو وہ انبیاء اور مرسلین کو بھی معصوم نہیں سمجھتے۔بلکہ انہیں بھی گناہ گار ٹھہراتے ہیں۔جب سب نسلِ آدم گناہ گار ٹھہری اور کوئی گناہ بغیر بدلہ کے معاف نہیں ہو سکتا تو مجبوراً خدا تعالیٰ نے اپنا بیٹا دنیا میں بھیجا تا وہ بے گناہ ہونے کے باعث سب انسانوں کا گناہ اٹھا لے اور ان کی جگہ سزا بھگتے۔عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی عفو اور رحمت سے بالکل خالی ہے۔بلکہ اس میں صریح بے انصافی نظر آتی ہے کیونکہ گناہ گار آدم زادوں کی بجائے معصوم ابن اللہ کو سزا دینا ہرگز انصاف نہیں ہے۔بہر حال کفارہ کا نظریہ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ عیسائیوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عفو کے خیال معدوم ہیں۔لیکن اسلامی تعلیم اس کے بالکل خلاف ہے۔اسلام جس خدا کو پیش کرتا ہے اس کی صفات میں سے غفوریت، ودودیت اور رحیمیت بھی ہے۔یعنی اگر عمل کرتے ہوئے کوئی کمزوری رہ جائے تو وہ اس کمزوری کو نظر انداز کرتے ہوئے انسان کے لئے ترقیات کے دروازے کھولتا رہتا ہے۔اور وہ اپنے بندوں کے ساتھ ایسی محبت و رافت کا سلوک کرتا ہے جیسے ایک مشفق باپ اپنے بچے کے ساتھ کرتا ہے۔بچہ خواہ کتنا ہی خراب کیوں نہ ہو۔باپ نہیں چاہتا کہ میرا بچہ ضائع ہو جائے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کے متعلق یہی چاہتا ہے کہ وہ نجات پاتے چلے جائیں خواہ ان کے اعمال میں کچھ کمزوریاں ہی رہ گئی ہوں اور درحقیقت ایسی ہی تعلیم پر عمل کرنے سے انسانی قلوب میں بشاشت قائم رہتی ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اور بالفرض نماز میں اس کی توجہ پوری طرح قائم نہیں رہتی تو اسلامی تعلیم کے نتیجہ میں وہ یہ نہیں سمجھے گا کہ میری نماز بے کار گئی۔بلکہ وہ یہ سمجھے گا کہ اگر تھوڑی بہت خامی بھی رہ گئی ہوگی تو تھوڑی سی توجہ اور انابت سے اللہ تعالیٰ اس کو نظر انداز کر دے گا۔اور اس کے لئے اپنے فضلوں کے دروازے بند نہیں کرے گا۔