تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 267

حاصل کئے کوئی شخص بدی سے بچ نہیں سکتا۔ویدوں کے پڑھنے کے لئے بلوغت کی عمر کے بعد کم از کم چھتیس برس کی وہ مدت ہے جسے پنڈت دیانند بانی آریہ سماج نے اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں مقرر کیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔’’آٹھویں سال سے آگے چھتیسویں سال تک یعنی ایک ایک وید کو معہ اس کے انگوں اور اپانگوں کے پڑھنے میں بارہ بارہ سال مل کر چھتیس اور آٹھ مل کر چوالیس خواہ اٹھارہ سال کا براہمچاریہ اور آٹھ سابق مل کر چھبیس یا نو سال یا جب تک پوری تعلیم حاصل نہ کرلے تب تک برہمچاریہ رہے۔‘‘( ستیارتھ پرکاش باب سوم تیسرے سملاس کا آغاز صفحہ ۴۶) اس تعلیمی عرصہ میں وید پڑھنے والے سے جو گناہ ہوں گے آیا وہ گناہ معاف کئے جائیں گے اور کیا ایشور اپنے بھگتوں کے گناہ معاف کر دیتا ہے؟ اس کا جواب پنڈت دیانند جی مصنف ستیارتھ پرکاش کے بیان کے مطابق حسب ذیل ہے : ’’سوال : ایشور اپنے بھگتوں کے پاپ معاف کرتا ہے یا نہیں؟ جواب : نہیں۔کیونکہ اگر وہ پاپ معاف کرے تو اس کا انصاف جاتا رہے اور تمام انسان سخت پاپی ہو جائیں۔کیونکہ درگذر کے سنتے ہی ان کو پاپ کرنے میں بے خوفی اور حوصلہ پیدا ہو جائے۔مثلاً اگر راجہ گناہ معاف کر دیا کرے تو لوگ حوصلہ پا کر اور بھی بڑے بڑے پاپ کرنے لگیں۔کیونکہ راجہ گناہ بخش دیا کرے گا اور ان کو بھی بھروسہ ہو جائے گا کہ ہم راجہ سے بذریعہ حرکات ہاتھ جوڑنے وغیرہ کے اپنے قصور معاف کرالیں گے۔تو جو لوگ قصور نہیں کرتے وہ بھی تقصیروں سے نہ ڈر کر پاپ کرنے میں راغب ہو جائیں گے۔اس لئے ایشور کا کام اعمال کا مناسب پھل دینا ہے نہ کہ معاف کرنا۔‘‘ (ستیارتھ پرکاش باب۷ کیا ایشور اپنے بھگتوں کے گناہ معاف کر سکتا ہے صفحہ ۱۸۷) گویا ایشور اپنے بھگتوں کے بھی گناہ معاف نہیں کر سکتا۔اب غور کر لیا جائے کہ انسان کے لئے مکتی حاصل کرنے کی کون سی صورت باقی رہ جاتی ہے۔کیونکہ انسان سے غلطی اور گناہ کا ہو جانا بالخصوص جب کہ اسے ابھی ویدوں کا پوری طرح علم نہیں ہے قرینِ قیاس ہے۔اور جب انسان حیوانی قالبوں میں جاتا ہے تو اس میں انسانی شعور باقی نہیں رہتا۔جب وہ از سرِ نوانسانی جامہ میں آئے گا تو پھر اس کے لئے یہی تسلسل اور چکر جاری رہے گااور اس کے لئے کسی مرحلہ پر بھی نجات پانا ممکن نہ ہوگا۔ہندو مذہب کے مطابق اگر کوئی شخص نجات پا بھی لے تب بھی اس کی وہ نجات اور مکتی دائمی نہیں ہے۔بلکہ ایک عرصہ کے بعد اس انسان کو مکتی خانہ سے نکال کر پھر دنیا میں جونوں کے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے