تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 266

ہے ایک عجیب روحانی تعلق ان لوگوں سے پاتا ہے جو ہزاروں سال سے اس روحانی سلک میں پروئے چلے آتے ہیں جس میں یہ شخص پرویا ہوا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کی محبت کا رشتہ جو سب کو باندھے ہوئے ہے خواہ پرانے ہوں یا نئے۔غرض اسلام نے عبادات کا صرف حکم ہی نہیں دیا بلکہ ان کی حکمت بھی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ تمام عبادات انسان کے فائدہ کے لئے مقرر کی گئی ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت منوانے کے لئے ان کا حکم نہیں دیا۔جب یہ صورت ہے تو پھر عبادت کرنے والے کے دل میں کیوں بشاشت پیدا نہ ہوگی اور کیوں وہ خوشی سے ہر ایک حکم پر عمل نہیں کرے گا؟ قرآن مجید کے علاوہ دوسری الہامی کتب کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے شریعت کو ایک چٹی کے طور پر پیش کیا ہے۔وید تو بالکل پردوں تلے ہیں ان سے شریعت کا کوئی پتہ نہیں لگتا۔تورات، ژند اوستاکو پڑھنے سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں شریعت موجود ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے شریعت اس لئے نہیں کہ اس میں انسان کا نفع ہے بلکہ اس لئے ہے کہ خدا یوں چاہتا ہے۔جس کی وجہ سے شریعت کی اصل غرض جو اصلاحِ نفس ہے فوت ہو جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان میں بعض احکام ایسے بھی ہیں جو انسان کے نفع کے لئے ہیں لیکن اتفاقی طور پر کسی ایسے حکم کا نکل آنا اور بات ہے یہ صرف قرآن کریم نے ہی بتایا ہے کہ سب احکام انسان کے فائدہ کے لئے ہیں۔دوسرا امر جس سے احکام کی تعمیل میں بشاشت پیدا ہوتی ہے یہ ہے کہ جس تعلیم کو انسان مانے اس میں رحمت کا پہلو غالب ہو۔کیونکہ رحمت کا پہلو غالب ہونے کی وجہ سے اسے یہ فائدہ حاصل ہو گا کہ اگر اس کے عمل میں کوئی کمزوری رہ جائے گی تو رحمت کا پہلو اس کی تلافی کر دے گا اور یہ بات صرف اسلام میں ہی پائی جاتی ہے باقی مذاہب اس سے خالی ہیں۔مثلاً ہندو تناسخ کے قائل ہیں۔تناسخ کے عقیدہ کی رو سے یہ مانا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی انسان کا گناہ معاف نہیں کر سکتا اور کسی کو اس کے نیک عمل کا بدلہ اس کے نیک عمل سے زائد نہیں دے سکتا۔تناسخ کے قائلین گناہوں کے مرتکب ہونے والے انسانوں کے لئے چوراسی لاکھ جونوں کے قائل ہیں۔گناہ گار انسان انسانیت کے جامہ کی بجائے حیوانیت کے مختلف جاموں میں داخل ہو تا ہے اور اپنے گناہ کی سزا بھگتتا ہے۔یہ عقیدہ اسی بنا پر ہے کہ ان کے نزدیک ایشور یعنی خدا کی جزا سزا میں رحمت کا کوئی پہلو نہیں ہے۔اگر ویدک فلاسفی پر غور کیا جائے تو کسی انسان کے لئے نجات پانا ممکن نہیں رہتا کیونکہ ویدوں کو پڑھے بغیر کوئی شخص صحیح طور پر نیکی اور بدی کا علم حاصل نہیں کر سکتا۔اور بغیر علم