تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 259
قائم رہے اور تعمیل کرنے والوں کو لذت و سرور حاصل ہو۔اور یہ فلسفہ ایک دو احکام میں نہیں بلکہ اسلام کے جملہ احکام میں اس کو مدّ ِنظر رکھا گیا ہے۔اسلام کے سارے احکام کو گننا اور ان کے فلسفہ کو بیان کرنا ایک لمبا وقت چاہتا ہے۔اس لئے یہ مضمون تفصیل کے ساتھ تو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ہاں ذیل میں چند ایک مثالیں بیان کر دیتے ہیں تا مفہوم واضح ہو سکے۔(۱)سو جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ( التوبۃ: ۱۰۳) یعنی اے ہمارے رسول! مسلمانوں کے اموال میں سے کچھ رقم بطور صدقہ یعنی زکوٰۃ لیا کر تاکہ اس طریق سے تُو ان کو پاک کرنے اور ان کے اموال میں ترقی دینے کا راستہ کھول سکے اور ان کی قربانی کا مظاہرہ دیکھ کر ان کے لئے دعائیں کر سکے۔کیونکہ تیری دعائیں ان کے لئے اطمینان و تسکین کا موجب ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ تیری دعائیں سنتا اور قربانی کرنے والوں کے حالات کو خوب جانتا ہے۔ان آیات میں پہلے فرمایا خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً کہ اے رسول ! مسلمانوں کے اموال سے زکوٰۃ لیا کر۔اس کے بعد اس حکم کی غرض و غایت ان الفاظ میںبیان کی کہ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا۔یعنی زکوٰۃ کی پہلی غرض تُطَهِّرُهُمْ کے ما تحت یہ ہے کہ انسان کا مال دوسروں کے حقوق ادا کرکے پاک ہو جائے کیونکہ تمام انسانوں کی دولت دوسرے لوگوں کی مدد سے کمائی جاتی ہے اور اس کمائی میں دوسروں کا حق شامل ہوتا ہے جو (باوجود مزدوری ادا کرنے کے)پھر بھی دولتمندکے مال میں باقی رہ جاتا ہے۔مثلاً ایک مالدار آدمی ایک کان سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ کان کے مزدوروں کو ان کی مزدوری پوری طرح ادا بھی کر دے تو بھی وہ جو کچھ ان کو ادا کرتا ہے وہ ان کی مزدوری ہے۔مگر قرآنی تعلیم کے مطابق وہ لوگ بھی اس کان میں حصہ دار تھے۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (البقرۃ:۳۰) کہ دنیا کے سب خزانے تمام بنی نوع انسان کے لئے پیدا کئے گئے ہیں نہ کہ کسی خاص شخص کے لئے۔پس مزدوری ادا کردینے کے بعد بھی حق ملکیت جو مزدوروں کو حاصل تھا ادا نہیں ہوتا۔اس کی ادائیگی کی یہ صورت ہو سکتی تھی کہ ان مزدوروں کو کچھ زائد رقم دے دی جائے۔مگر اس سے بھی وہ حق ادا نہیں ہوسکتا تھا۔کیونکہ اس طرح ان چند مزدوروں کو تو ان کا حق ادا ہو جاتا مگر باقی دنیا جو اس میں حصہ دار تھی اس کا حق ادا ہونے سے رہ جاتا۔پس اسلام نے یہ حکم دیا کہ اس قسم کی کمائی میں سے کچھ حصہ حکومت کو اداکیا جائے تاکہ وہ اسے تمام لوگوں میں مشترک طور پر خرچ کرے۔