تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 258

یہ امر ظاہر ہے کہ احکام کی تعمیل میں بشاشتِ قلبی تبھی پیدا ہو سکتی ہے جب مندرجہ ذیل امور موجود ہوں :۔۱۔احکام کے فلسفہ کو سمجھنا۔۲۔رحمت کا پہلو تعلیم میں غالب ہونا۔۳۔احکام کی تعمیل میں ایسے فوائد کا موجود ہونا جو اس تکلیف اور مشقت سے بڑھ کر ہوں جو اعمال کے بجالانے میں اٹھانی پڑتی ہے۔۴۔شریعت کا خود انسان کے حق میں مفید ہونا جس سے اسے اپنا مقصود نظر آجائے۔یہ چاروں باتیں صرف اسلام میں پائی جاتی ہیں دوسرے مذاہب ان باتوں سے خالی ہیں۔چنانچہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کے سارے احکام فلسفہ پر مبنی ہیں۔یعنی اسلام صرف کوئی حکم ہی نہیں دیتا بلکہ ساتھ ہی یہ بتاتا ہے کہ اس حکم کی غرض کیا ہے، اس کے فوائد کیا ہیں اور اس کا مقصد کیا ہے۔تا ان احکام پر عمل کرنے والا اپنے دل میں ایک لذت محسوس کرے اور سمجھ لے کہ وہ لغو کام نہیں کر رہا۔یا صرف حکم کی تعمیل نہیں کر رہا بلکہ ایسے حکم کی تعمیل کر رہا ہے جو اپنے اندر بے شمار انفرادی اور قومی فوائد رکھتا ہے۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صرف حکم ہی نہیں بلکہ اس کا فلسفہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر احکام کے ساتھ ساتھ آسمان سے نازل کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا (النسآء:۱۱۴) یعنی اے ہمارے رسول ہم نے تجھ پر احکام پر مشتمل ایک مکمل کتاب نازل کی ہے اور ان احکام کا فلسفہ بھی آسمان سے نازل کیا ہے اور تجھے وہ کچھ سکھایا ہے جو اس سے پہلے تو نہیں جانتا تھا اور تجھ پر اللہ کا بہت بڑا فضل و احسان ہے۔پھر فرمایا کہ احکام کا یہ فلسفہ ہم نے صرف اپنے رسول پر اس کے ذاتی علم کے لئے ہی نہیں نازل کیا بلکہ اس لئے نازل کیا ہے تا وہ اپنے متبعین کو یہ فلسفہ بتائیں اور ان کو سمجھائیں۔چنانچہ فرمایا۔لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ( اٰلِ عمران:۱۶۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا جبکہ اس نے انہی کی قوم میں سے ایک رسول مبعوث کیا۔جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کے دلوں کو پاک کرتا ہے اور قوم کو ترقی کے ذرائع بتاتا ہے کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ اس سے پہلے نہایت ہی خطرناک گمراہی میں مبتلا تھے۔پس اسلام کو دوسرے مذاہب کے مقابل پر یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ اپنے احکام کی اغراض اور ان کے فلسفہ کو بھی بیان کرتا ہے تاکہ ان احکام کی تعمیل میں بشاشت قلبی