تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 257
فِیْہِ وَعَلَیْہِ مُطَاوَعَۃٌ۔وَافَقَہٗ۔کہ فلاں نے فلاں کی کسی امر میں مطاوعت کی۔اور اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس نے دل سے اس کی موافقت کی۔اس طور پر نہیں کہ اس موافقت کے لئے اس نے اپنے نفس پر جبر کیا ہو۔اسی طرح کہتے ہیں طَاوَعَ لَہُ الْمُرَادُ۔اَتَاہُ طَائِعًاسَھْلًا یعنی طَاوَعَ لَہُ الْمُرَادُ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس کا مقصد، اس کی مراد اور دلی خواہش بغیر تکلیف اورجدوجہد کے خود بخود پوری ہو گئی۔پھر کہتے ہیں اَطَاعَہُ الْمَرْتَعُ اَیْ اِتَّسَعَ وَ اَمْکَنَہُ الرَّعْیَ یعنی جب اَطَاعَہُ الْمَرْتَعُ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ چراگاہ نہایت وسعت والی ہو گئی اور جانوروں نے بغیر کسی روک ٹوک کے چراگاہ کی گھاس سے اپنے پیٹوں کو بھر لیا۔گویا اس میں مجازاً اس مضمون کو ادا کیا گیا ہے کہ چراگاہ اپنے آپ کو خود بخود پیش کر رہی تھی کہ اس سے جانور گھاس کھا کر سیر ہوسکیں۔(اقرب) الغرض اَلطَّاعَۃُ کے معنے وضع لغت کے لحاظ سے خالی فرمانبردای کے نہیں۔بلکہ اس فرمانبرداری کے ہیں جو پسندیدگی اور خوشی سے ہو نہ کہ جبر اور اکراہ سے۔اور جو تکلف سے اطاعت کی جائے۔یعنی عمل کرتے ہوئے اگر شرح صدر نہیں تو نفس کو عمل پر آمادہ کیا جائے اور بشاشت کا اظہار تکلف سے کیا جائے۔اس کے لئے عربی زبان میں عام طور پر تَطَوَّعَ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہُ(البقرۃ:۱۸۵) کہ جو پورے شوق اور رضا سے اور شرح صدر سے نیکی نہیں کر سکتا اسے کم از کم تکلف سے ہی نیکی کرنی چاہیے اور نیکی کرتے وقت بشاشت کا اظہار کرنا چاہیے۔تاکہ یہ ظاہر نہ ہو کہ وہ اس کو بوجھ سمجھ رہا ہے اور اگر ایسا کرے گا تو بہرحال اس کے لئے بہتری کے وہ راستے جو شرح صدر سے اعمال کرنے والے کے لئے کھلتے ہیں کھل جائیں گے۔امام راغب اپنی کتاب مفردات میں لکھتے ہیں کہ تَطَوَّعَ کے گو اصل معنے تکلف سے کام کرنے کے ہیں مگر محاورہ میں غیر واجب کام کے نفلی طور پر کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔اس لئے اس آیت میں یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جو شخص نفلی طور پر نیکی کرے وہ اس کے لئے بہتر ہو گی۔پس اطاعت کے اس مفہوم کے لحاظ سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے معنے یہ ہوں گے کہ اے منکرو! تمہارا اطاعت کا مفہوم اور ہے اور میرا اور ہے یعنی تم صرف ظاہری آداب بجا لانے کو اطاعت سمجھ رہے ہو اور میں اطاعت صرف اسے کہتا ہوں کہ بشاشتِ قلب سے اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لائے جائیں اور ان کو بجا لاتے ہوئے انسان کو لذّت اور سرور محسوس ہو۔