تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 256
امور میں جو ہماری طبیعت کے مناسب حال ہیں اطاعت کرنے کو تیار ہیں۔بہر حال ایسے لوگ جو ان امور میں اطاعت کریں جنہیں ان کے اپنے نفس بھی ماننے کے لئے تیار ہوں پوری طرح خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔اس کے مقابلہ میں وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی اطاعت اس لئے نہیں کرتا کہ اس کے احکام اس کی مرضی کے مطابق ہیں۔بلکہ خواہ وہ اس کی مرضی کے مطابق ہوں یا نہ ہوں وہ ان کی اطاعت کرتا چلا جاتا ہے۔اس کا ایسے لوگوں کے ساتھ جو اس اصل کے منکر ہوں اتحاد فی العبادۃ نہیں ہو سکتا۔(۷)انسان اس لئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری نہ کرے کہ ان احکام پر چلنے کی وجہ سے اسے مادی فوائد حاصل ہو جائیں گے۔مثلاً زکوٰۃ دے تو اس لئے نہیں کہ برادری سے تعلقات مضبوط ہو جائیں گے بلکہ اس لئے دے کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو جائے گی۔جب تک اس اصل کے مطابق اطاعت نہ کی جائے انسان اپنے ایمان میں کامل نہیں کہلا سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ (التوبۃ:۷۱) یعنی کامل الایمان لوگ وہ ہیں جو زکوٰۃ دیتے ہیں لیکن مادی فوائد کے لئے نہیں۔رشتہ داریاں بڑھانے اور تعلقات قائم کرنے کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کی غرض سے اور اس لئے کہ اس کی خوشنودی اور اس کی رضا حاصل ہو جائے۔یعنی جن امور کو خدا تعالیٰ پسند کرتا ہے ان کو بھی وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے سرانجام دیتے ہیں یعنی کام خواہ ان کی فطرت کے مطابق ہوں یا قومی ضرورتوں کے مطابق ہوں۔پھر بھی وہ ہر اچھا کام اس لئے نہیں کرتے کہ وہ کام ان کی فطرت کے مطابق ہے یا اس کے کرنے سے قوم خوش ہو جائے گی۔بلکہ وہ اس لئے ان اعمال کو بجا لاتے ہیں کہ ان کا خدا خوش ہو جائے گا بہر حال وہ شخص جو اپنے اعمال کے بجا لانے میں اس نقطۂ نظر کو ملحوظ رکھتا ہے وہ ان کے ساتھ مل کر کیونکر عبادت کر سکتا ہے جو احکام الٰہی پر صرف اس لئے عمل کرتے ہیں کہ ان کو مادی یا قومی فوائد حاصل ہو جائیں۔پھر یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لفظ اَلطَّاعَۃُ کے معنے محض فرمانبرداری نہیں۔بلکہ ایسی فرمانبرداری کے ہیں جو بشاشتِ قلب کے ساتھ کی جائے اور اس میں نفس کی مرضی اور پسندیدگی بھی پائی جاتی ہو۔چنانچہ کہتے ہیں جَآءَ فُلَانٌ طَوْعًا اَیْ غَیْرَ مَکْرَہٍ (اقرب) یعنی فلاں شخص اپنی مرضی اور اختیار سے خود بخود آگیا نہ کہ جبر سے۔اور طَوْعٌ کے مقابل پر کَرْہٌ کا لفظ بولا جاتا ہے جس کے معنے ہیں مَا اَکْرَھْتَ نَفْسَکَ عَلَیْہِ (اقرب) کہ انسان کوئی کام دل سے نہیں کرنا چاہتا بلکہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے اسے سر انجام دینے پر مجبو رہو جاتا ہے اور یہ صاف ظاہر ہے کہ ایسے کام میں بشاشت پیدا نہ ہوگی۔طَوْعٌ مادہ سے بننے والے دوسرے کلمات اس مفہوم کو مزید واضح کر دیتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں طَاوَعَہ