تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 22
بتائی گئی ہیں فَصَلِّ میں فاء تعقیب کی ہے جس کے معنے نتیجہ کے ہو تے ہیں جیسے کہتے ہیں تَزَوَّجَ فَوُلِدَ لَہٗ۔اس نے شادی کی جس کے نتیجہ میںاس کے ہاں بچہ پیدا ہوا یا ذَھَبْتُ اِلٰی بَیْتِہٖ فَسَأَلْتُہُ میں اس کے گھر گیا تو اس سے میں نے سوال کیا یعنی سوال کرنا گھر جانے کانتیجہ تھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۔اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۔ہم نے تجھے کوثر دیا ہے اس کے نتیجہ کے طور پر تو یہ کام کر۔اب یہاں یہ معنے چسپاں ہی نہیں ہو سکتے کہ ہم نے تجھے جنت میں نہر دی ہے اس کے نتیجہ میں تو نماز پڑھ اور قربانی دے۔تیرادشمن ابتر ہوجائے گا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں نے شادی کی ہے جس کے نتیجہ میں کوئٹہ میں زلزلہ آیا۔ہر شخص کہے گا کہ زلزلہ کا شادی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔یہ تو ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ والی بات ہے۔اسی طرح نماز، قربانی اور دشمن کا ابتر رہنا نہر کا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔اگر یہ نہر کا نتیجہ ہوتا تو پھر کوئی روایت ایسی بھی آنی چاہیے تھی کہ فلاں وقت نہر کے بدلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دو نفل پڑھے یا اونٹ کی قربانی کی یا اس کے نتیجہ میں فلاں دشمن کا بیٹا مر گیا لیکن ایسی کوئی روایت نہیں۔ہم یہ معنے تو کر سکتے ہیں کہ ہم نے تجھے خیر کثیر دیا ہے اس لئے تو نماز پڑھ اور قربانی دے اور ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عمل سے یہ ثابت بھی کر سکتے ہیں۔لیکن جو شخص یہ کہتا ہے کہ کوثر سے یہاں نہر مراد ہے اس کو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ فلاں دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جنت میں نہر ملنے کے شکریہ میں نفل پڑھے یا قربانی دی یا فلاں دشمن کا بیٹا اس کے نتیجہ میں مر گیا اور اگر وہ یہ ثابت نہیں کر سکتا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی۔خدا تعالیٰ نے تو کہا تھا کہ اس کے شکریہ میں آپ نماز پڑھیں مگر آپ نے اس شکریہ میں نماز نہیں پڑھی۔خدا تعالیٰ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کے شکریہ میں قربانی دیں مگر آپ نے اس کے شکریہ میں قربانی نہیں دی اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہے۔پھر یہ روایت بھی ہونی چاہیے تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے مجھے اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک نہر دی ہےاس کے نتیجہ میں فلاں دشمن کے بیٹے مر جائیں گے اور میرے زندہ رہنے والا بیٹا پید اہو جائے گا۔مگر اس قسم کی کوئی روایت نہیں۔بہر حال اگر کوثر سے محض نہر مراد لی جائے تو ان تینوں باتوں کا اس کے ساتھ کوئی جوڑنظر نہیں آتا۔اگر کہو کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ کا حکم آپ کو اس لئے دیا گیا تھا تاکہ آپ اس نہر کے ملنے پر اللہ تعالیٰ کا اس رنگ میں شکریہ ادا کریں تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی بڑا انعام تھا جس کے لئےرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شکریہ کا حکم دیا گیا؟ اس سے بڑا انعام تو قرآن کریم تھا اس سے بڑا انعام تو لِقا الٰہی تھا اس کے حاصل ہو نے پر تو فَصَلِّ لِرَبِّكَ