تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 254
ہے۔کیونکہ اس کی اطاعت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ خدائے واحد سے دور لے جائے گا۔پس یہ لازمی امر ہے کہ انسان اسی کی اطاعت کرے اور اسی کے ساتھ مل کر عبادت کرے جس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور ذکر ِ الٰہی کرنے کا وہ عادی ہو اور خدا تعالیٰ کی توحید پھیلانے کا وہ شغل رکھتا ہو۔اگر اس میں ایسی کوئی بات نہیں پائی جاتی تو اس کی صحبت اور اس کا لیڈر ہونا لوگوں کو خدا تعالیٰ سے دور کرتا چلا جائے گا اور عبادت بجائے قائم ہونے کے ختم ہو جائے گی۔چونکہ کفار توحید کو نہیں مانتے۔نہ ان کے دل میں محبت الٰہی کا جذبہ ہے۔اس لئے مومنوں کا ان سے اتحاد فی العبادۃ نہیں ہو سکتا۔(۳)جو شخص بجائے واقعات پر بنیاد رکھنے کے صرف قسمیں کھا کر اپنے دعویٰ کو ثابت کرنا چاہتا ہے اس کے ساتھ تعاون کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّھِیْنٍ ( القلم:۱۱) یعنی اے مخاطب ہر قسم کھانے والے کی پیروی مت کر۔گویا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر بات واقعات و حقائق پر مبنی ہونی چاہیے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ (یوسف:۱۰۹) یعنی ہمارے رسول یہ اعلان کر دے کہ میں اور میرے متبعین اپنے دعویٰ کے ساتھ شواہد، بیّنات اور دلائل رکھتے ہیں اور ہماری ہر بات حقائق و واقعات پر مبنی ہے۔پس ہر بات واقعات پر مبنی ہونی چاہیے۔خالی قسموں پر نہیں۔بےشک قرآن مجید نے بھی قسمیں کھائی ہیں۔لیکن قرآن کریم نے جو قسمیں کھائی ہیں وہ درحقیقت بطور شہادت کے ہیں۔مثلاً فرمایا وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ (البروج :۲) کہ ہم قسم کھاتے آسمان کی جو بروج والا ہے۔یعنی ہم شہادت کے طور پر آسمان کو پیش کرتے ہیں جس میں بہت سے مدارج ہیں۔اس بات کی تائید کے لئے کہ آسمان روحانی بھی مختلف مدارج رکھتا ہے یعنی روحانی ترقیات بھی مختلف درجوں میں تقسیم ہیں۔اور ان سب کا مدّ ِنظر رکھنا ضروری ہے۔اگر تم اس پر غور کرو گے تو تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ مختلف زمانوں میں انسانوں کی ضرورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے الگ الگ شریعتیں کیوں بھیجیں۔اگر اس امر کو سمجھ لیاجائے تو تمہیں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔لیکن اگر اس نکتہ کو نہ سمجھو گے تو تمہارے دل میں فوراً سوال پیدا ہو گا کہ ابراہیمؑ کے بعد موسٰی کی کیا ضرورت تھی اور موسٰی کے بعد عیسیٰؑ کی کیا ضرورت تھی اور پھر عیسیٰؑ کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا ضرورت ہے؟ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین چونکہ اپنی باتوں کی بنیاد واقعات، دلائل اور شواہد پررکھتے ہیں۔اس لئے ان کا کفار سے اتحاد فی العبادۃ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ اپنی باتوں کی بنیاد واقعات پر نہیں