تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 253

سے ہو۔اس لئے جو ان کی اتباع کرے گا وہی اللہ تعالیٰ کا متبع اور مطیع قرار پا سکتا ہے۔اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ (النسآء:۸۰،۸۱) کہ اے محمد رسول اللہ ! اب ہم نے ساری دنیا کی ہدایت کا سامان تیرے ذریعہ سے کیا ہے۔جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری کرے اسے چاہیے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کرے۔کیونکہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔پھر اسی مضمون کا اعلان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کر دیا گیا ہے۔فرمایا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ( اٰل عمران:۳۲،۳۳) یعنی اے ہمارے رسول لوگوں کو یہ کھول کر سنا دو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ بھی تم سے محبت کا اظہار کرے تو اس کا یہ طریق ہے کہ اس نے جو احکام میرے ذریعہ سے دنیا کے لئے بھیجے ہیں ان پر چلو اور میری پیروی کرو خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گااور تمہاری کمزوریوں کو نہیں دیکھے گا بلکہ تمہاری ان کمزوریوں کے باوجود اپنا جلوہ تمہیں دکھائے گا اور اپنے فضلوں سے تمہیں ڈھانپ لے گا۔پھر فرمایا قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ۔کہ اے لوگو!اچھی طرح سے سن لو کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اس رسول کی اطاعت کرو۔اس فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت رسول کی اطاعت کے ذریعہ سے کرو۔رسول چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تعلیم لاتا ہے اس لئے جو اس پر ایمان لاتا ہے درحقیقت وہی خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔پس ضروری ہواکہ احکام الٰہی کی وہ تفصیلات جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہیں ان کے مطابق اطاعت کی جائے اور اگر ان کے مطابق اطاعت نہ کی جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کہلا سکتی۔پس جو الہامی شریعت کو مانتا ہے صرف وہی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا مدعی ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ مل کر عبادت بھی کی جا سکتی ہے۔اسلام کا منکر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی تعلیمات کو تسلیم نہیں کرتا اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر ہی نہیں سکتا۔اور جو شخص ایسے انسان کی روحانی امور میں اطاعت کرے گا اور اس کے ساتھ عبادت میں شریک ہو گا وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرے گا۔(۲)جس شخص کے دل میں محبت الٰہی کا جذبہ نہ ہو یا وہ کامل توحید پر نہ چلتا ہو اس کی بھی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا (الکہف:۲۹) یعنی اے مخاطب تو اس شخص کی اطاعت مت کر جس کے دل میں ہماری محبت نہیں اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتا