تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 252
کے پیش کردہ اصول اور طریق کار صحیح اور اہم ہیں تو پھر مسلمانوں کا کافروں سے عبادت میں علیحدگی اختیار کرنا بالکل درست اور ایک ضروری امر ہو جاتا ہے۔اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔اور نہ اسے دھینگا مشتی کا فعل قرار دیا جاسکتا ہے۔اب ہم اس مضمون کو جو مجملاً اوپر بیان کیا گیا ہے وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ کس طرح لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کی آیت پہلی آیات کے لئے بطور سبب اور وجہ کے ہے اور یہ کہ کس طرح اس آیت کے مضمون سے پہلی آیات کے مضمون کو واضح اور مدلّل کیا گیا ہے۔سو جاننا چاہیے کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے کہ لفظ دِیْن کے پہلے معنے اَلطَّاعَۃ یعنی فرمانبرداری کے ہیں۔ان معنوں کی رو سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے منکرو! چونکہ تمہارا طریق اطاعت اور اصول اطاعت اور میرا طریق اطاعت اور اصول اطاعت الگ الگ ہے اس لئے میں تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا اور تم میرے معبود کی اطاعت کرنے سے عملاً قاصر ہو۔کیونکہ میرے اصول کے ماتحت بتوں کی اطاعت نہیں ہو سکتی اور تمہارے اصول کے ما تحت خدائے واحد کی اطاعت نہیں ہو سکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے متبعین کے اصولِ اطاعت جو قرآن کریم سے مستنبط ہوتے ہیں یہ ہیں:۔(۱)اس دنیا کا خالق و مالک خدائے واحد ہے اس کے احکام کی ہر شخص کو فرمانبرداری کرنی چاہیے۔چنانچہ فرمایا فَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ فَلَہُ اَسْلِمُوْا(الحج : ۳۵)کہ اے لوگو! تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اس کی فرمانبرداری کرو۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح فرمانبرداری کی جائے؟ کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے احکام دینے کے لئے خود دنیا میں نہیں آتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک وہ خود دنیا میں نہیں آتا۔لیکن وہ اپنے رسول بھیجتا ہے اور ان کے ذریعہ لوگوں کو تعلیم دیتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١ٞ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ(الانعام:۱۰۴ )یعنی عقلیں اس تک نہیں پہنچ سکتیں۔مگر وہ خود عقلوں تک پہنچنے کے ذرائع اختیار کرتا ہے۔پس ایک رسول کی آواز سن کر یا تو یہ کہنا پڑے گا کہ وہ جھوٹا ہے اور اس پر کلامِ الٰہی اور شریعت نازل نہیں ہوئی۔اس صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ رسول ہی نہیں ہے۔اور اگر وہ سچا ہے اور اس پر الہامی شریعت نازل ہوئی ہے تو پھر اس کا انکار کر کے کوئی شخص خدا تعالیٰ کا مطیع نہیں کہلا سکتا۔پس جو لوگ رسولوں کومان لیتے ہیں وہی اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری کرنے والے ہوتے ہیں۔اور جو انکار کرتے ہیں وہ صحیح راستہ سے بھٹک جاتے ہیں۔اب چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دنیا کی ہدایت کا سامان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ