تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 251

حل لغات میں لفظ دین کے گیارہ معنے لکھے گئے ہیں اور وہ سارے کے سارے اس آیت پر چسپاں ہوتے ہیں اور ان معنوں کو چسپاں کرنے کے بعد یہ مضمون واضح ہو جاتا ہے کہ کس طرح اس سوال کو جو قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ۔لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ کے بعد طبعاً دل میں پیدا ہوتا تھا حل کر دیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین مجبور ہیں کہ وہ اعلان کر دیں۔کہ وہ اپنے مذہب کے اصول عبادت کو چھوڑ کر کفار کے ساتھ متحد فی العبادۃ نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کی زبردست وجوہات ہیں جو اختصاراً لفظِ دین میں ہی بیان کر دی گئی ہیں اور جن کا ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔لفظ دین میں آٹھ وجوہات کی طرف اشارہ اوّل۔مسلمان جس قادر و قیوم ہستی کو مانتے ہیںان کے نزدیک اس کی اطاعت کے اصول اور ہیں اور کافروں کے نزدیک ان کے معبودوں کی پیروی کے اصول اور۔(دِیْنٌ بمعنی اَلطَّاعَۃُ) دوم۔مسلمانوں کا طریق عبادت اور ہے اور کافروں کا طریقِ عبادت اور۔(دِیْن بمعنی مَا یُعْبَدُ بِہِ اللہُ) سوم۔مسلمانوں کے اصول حکومت اور ہیں اور کافروں کے اور۔(دِیْن بمعنی اَلسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَالْحُکْمُ) چہارم۔مسلمانوں کے نزدیک تقویٰ اور نیکی اور بدی کی تعریف اور ہے اور کافروں کے نزدیک اور۔اسی طرح مسلمانوں کے نزدیک حلال اور حرام کے اصول اور ہیں اور کافروں کے نزدیک اور (دِیْن بمعنی اَلْوَرَعُ وَالْمَعْصِیَۃُ) پنجم۔مسلمانوں کے لوگوں سے معاشرت کے اصول اور ہیں اور کافروں کے اور(دِیْن بمعنی اَلسِّیْرَۃُ ) ششم۔مسلمانوں کی تدبیر اور ہے اور کافروں کی اور (دِیْن بمعنی اَلتَّدْبِیْر) ہفتم۔مسلمانوں کی عادات اور ہیں اور کافروں کی اور (دِیْن بمعنی اَلْعَادَۃُ) ہشتم۔مسلمانوں کے روز مرہ کے کاموں کے اصول اور ہیں اور کافروں کے اور(دِیْن بمعنی اَلْـحَال) گویا لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کے نہ اصول ملتے ہیں اور نہ طریق کار۔اس لئے مسلمانوں کی طرف سے یہ اعلان کہ ہم کفار کے ساتھ عبادت میں اتحاد نہیں کر سکتے بالکل صحیح اور درست ہے۔اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔کفار اگر کچھ کہہ سکتے ہیں تو صرف یہ کہ جو اصول اور طریق کار مسلمانوں نے اختیار کئے ہیں وہ غلط ہیں۔اگر ان کی یہ بات ثابت ہو جائے تو بےشک اسلام کا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے۔لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اسلام