تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 250

اعلان کر دیں کہ کفار کے ساتھ ان کا اتحاد فی العبادۃ ناممکن ہے۔زیر تفسیر آیت لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ میں ایسا اعلان کرنے کا سبب بتایا گیا ہے۔اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کا یہ اعلان دھینگا مشتی کا فعل نہیں نہ کسی عناد کے نتیجہ میں ایسا کیا گیا ہے۔بلکہ یہ اعلان اس بات کا نتیجہ ہے کہ کفار کا دین ان کے لئے عبادت کا اور طریق مقرر کرتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کا دین ان کے لئے عبادت کا اور طریق مقرر کرتا ہے۔اور چونکہ ہر دو طریق کار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اس لئے دونوں فریق کا اجتماع فی العبادۃ ناممکن ہے۔سورۂ کافرون کی ابتدائی آیات میں پہلے ایک اصولی فیصلہ کا اعلان کیا گیا ہے۔اور پھر اس اعلان کی دلیل لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔یہی طریق بیان ہماری زبان میں بھی پایا جاتا ہے۔چنانچہ ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ فلاں بات اس طرح ہے کیونکہ فلاں نے یوں کہا ہے۔یعنی کلام کا آخری حصہ پہلے حصہ کے لئے وجہ اور سبب ہوتا ہے اور پہلا حصہ ایک نتیجہ ہوتا ہے جس کی بنیاد دوسرے حصہ پر رکھی جاتی ہے۔عربی زبان میں چونکہ اختصار کو ملحو ظ رکھاجاتا ہے اس لئے بعض اوقات ان الفاظ کو جو ’’چونکہ‘ ‘اور’’کیونکہ‘ ‘کا مفہوم ادا کرتے ہیں اڑا دیتے ہیں اور اس سارے مفہوم کو جملہ کی بندش سے ادا کیاجاتا ہے۔یہی طریق زیر تفسیر آیت میں اختیار کیا گیا ہے۔پہلے فرمایا قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ۔لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ۔وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ۔وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ۔یعنی ہم ہر زمانہ کے مسلمان سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے زمانہ کے کفار کو کہتا چلا جائے۔کہ وہ ان معبودوں کی عبادت نہیں کر سکتا جن کی کفار عبادت کرتے ہیں اور نہ کفار اس ہستی کی عبادت کر سکتے ہیں جن کی مومن عبادت کر رہا ہے اور نہ مسلمان اس طریقِ عبادت کو اختیار کرسکتا ہے جس کو کافر اختیار کئے ہوئے ہیںاور نہ کافر ہی مسلمان کے طریق عبادت کو اختیار کر سکتا ہے۔اس اہم اعلان پر طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آخر اس اعلان کی ضرورت کیا پیش آئی۔کیا کوئی ذاتی عناد ہے جو مسلمانوں اور کافروں میں ہے یا کوئی مناقشت اور جھگڑا ہے؟ فرمایا ایسا نہیں بلکہ اس اعلان کی وجہ یہ ہے کہ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ مسلمانوں کا دین عبادت کا اور طریق پیش کرتا ہے اور کافر کا دین اور طریق پیش کرتا ہے۔اور ہر دو طریق کار چونکہ بالکل متضاد اور مختلف ہیں۔اس لئے دونوں گروہوں کا جمع ہونا ناممکن اورمحال ہے۔گویا لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے فقرہ نے سابق آیات کے مفہوم کو کھول دیا اور وہ خلش اور سوال جو طبیعت میں پیدا ہوتا تھا کہ آخر اس اعلان میں براءۃ کی کیا ضرورت پیش آئی تھی اس کو جامع مانع الفاظ کے ساتھ حل کر دیا۔