تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 249
سے ہوجاتا ہے۔یعنی کفار اپنی فطرت کے لحاظ سے تو شرک پر ہی قائم تھے۔مگر جب نصرت اور فتح کے ذریعہ سے اسلام کی صداقت روز روشن کی طرح ظاہر ہو گئی تو ان کو حالات نے مجبور کر کے اسلام کی طرف دھکیل دیا۔پس باوجود ان کے اسلام لے آنے کے وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ والی آیت جھوٹی نہیں ہوئی بلکہ سورۂ کوثر بھی سچی ہوئی، سورہ ٔنصر بھی سچی ہوئی اور سورۂ کافرون بھی سچی ہوئی۔لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِؒ۰۰۷ (اوپر کا اعلان نتیجہ ہے اس کا کہ )تمہارا دین تمہارے لئے (طریق کار مقرر کرتا) ہےاور میرا دین میرے لئے (طریق کار مقرر کرتا )ہے۔حلّ لُغات۔دِیْنٌ۔دِیْنٌ کے عربی زبان میں مندرجہ ذیل معنے ہیں۔(۱) اَلطَّاعَۃُ۔فرمانبرداری(۲) اَلسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَالْـحُکْمُ۔غلبہ، بادشاہت اور حکومت(۳) اَلسِّیْرَۃُ۔طریقہ۔مذہب اور لوگوں سے معاشرت کی کیفیت۔(۴) اَلتَّدْبِیْرُ۔تدبیر کرنا (۵) اِسْـمٌ لِـجَمِیْعِ مَا یُعْبَدُ بِہِ اللہُ۔دین نام ہے ان تمام طریقوں کا جن کے ذریعے خدا تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔مثلاً مسلمانوں میں نماز پڑھنایا حج بیت اللہ کے لئے جانا یا اموال کی مقرر ہ مقدار پر ایک خاص نصاب سے غریبوں اور مسکینوں کے لئے زکوٰۃ کا ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی عبادت قرار دیا جاتا ہے۔یہ طریق عبادت عربی زبان کے لحاظ سے دین کہلائے گا۔اسی طرح ہندوؤں کے طریق عبادت کی جو بھی شکل ہو وہ دین کہلائے گی۔یہودیوں اور زرتشتیوں وغیرہ کے طریق عبادت کی جو بھی شکل ہو وہ دین کہلائے گی گویا عبادت الٰہی خواہ کسی طریق سے کی جائے اس کا نام دین ہوتا ہے۔(۶)اَلْمِلَّۃُ۔نظام جماعت (۷)اَلْوَرَعُ۔بدیوں اور ممنوعات سے بچنا(۸)اَلْمَعْصِیَۃُ۔اطاعت سے نکلنا (۹)اَلْـحَالُ۔حالت یا کیفیت (۱۰)اَلشَّاْنُ (ا) ایک خاص حالت۔شان کے معنے حالت کے ہوتے ہیں۔لیکن اَلشَّاْنُ کا لفظ عام حالت سے کسی قدر بلند معنوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔جسے ہمارے ملک میں بڑی شان کہتے ہیں (ب)بہت ہی اہم امر (۱۱) اَلْعَادَۃُ۔عادت(اقرب) تفسیر۔لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ میں کفار کی عبادت اختیار نہ کرنے کی دلیل کا بیان ہے سورۂ کافرون کی پہلی پانچ آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ