تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 235

کے اعلان عام کا ارشاد ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کسی امر کا اعلان عام ایک آدمی نہیں کر سکتا۔ایسے اعلان کا ذریعہ ایک جماعت ہی ہو سکتی ہے۔جو نسلاً بعد نسلٍ یہ کام کرتی چلی جائے تاکہ ہر قوم و ملک کو بھی وہ پیغام پہنچ جائے۔اور ہرنسل اور ہر زمانہ کے لوگوں کو بھی وہ پیغام پہنچ جائے اگر وحیٔ متلو میں یعنی قرآن کریم میں قُلْ کا لفظ نہ رکھا جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حکم چلتا۔آپ کے بعد یہ حکم نہ چلتا۔لیکن جبکہ قرآن کی وحی میں یہ لفظ شامل کر دیا گیا تو اب اس کے متواتر تا قیامت جاری رہنے کی صورت پیدا ہو گئی۔جب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ تو کافروں کو مخاطب کر کے کہہ دے کہ اے کافرو! میں تمہارے معبود کی عبادت قطعاً نہیں کرتا اور نہیں کر سکتا۔تو آپ نے یہ اعلان کافروں میں کر دیا مگر قُلْ کا لفظ پہلے نہ ہوتا تو مسلمان سمجھتے یہ محمد رسول اللہ ؐکا کام تھا ختم ہو گیا۔لیکن جب آپ نے اپنی وحی مسلمانوں کو سنائی اور یوں پڑھا قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ تو ہرمسلمان نے سمجھ لیا کہ یہ حکم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لئے نہ تھا بلکہ میرے لئے بھی تھا کیونکہ میرے سامنے جب وحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے تو اس کے پہلے قُلْ کہا ہے جس کا مخاطب میں ہی ہو سکتا ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں۔کیونکہ وہ تو پڑھ رہے ہیں سن تو میں رہا ہوں۔پس اس نے اس حکم کی تعمیل میں یہ پیغام آگے پہنچا دیا۔لیکن چونکہ قُلْ کا لفظ وحی میںتھا اس نے بھی اگلے شخص کے سامنے اسی طرح پیغام پہنچا دیا کہ قُلْ کا لفظ بھی دہرایا اور اس تیسرے شخص کے سامنے جب قُلْ کا لفظ کہا گیا تو اس نے سمجھ لیا کہ صرف مجھے پیغام نہیں پہنچایا گیا بلکہ مجھ سے یہ بھی خواہش کی گئی ہے کہ میں آگے دوسروں تک یہ پیغام پہنچا دوں۔پھر اس تیسرے آدمی نے چوتھے کو جب پیغام دیا تو پھر قُلْ کہا کیونکہ یہ وحی کا حصہ ہے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔اس لفظ کے سننے سے پانچویں نے بھی سمجھ لیا کہ میں نے ہی اس حکم پر عمل نہیں کرنا بلکہ آگے دوسروں تک بھی یہ حکم پہنچانا ہے۔غرض اس طرح تاقیامت اس حکم کے دہرانے کا انتظام کر دیا گیا۔پس دیکھو کہ قُلْ کے لفظ کو وحی کا حصہ بنا کر کتنا بڑا کام کیا گیا ہے۔جب عام قرآنی سورتوں کو انسان پڑھتا ہے تو اسے وہ حکم پہنچ جاتا ہے جو ان میں ہے۔مگر جب وہ اس سورۃ یا آیت کو پڑھتا ہے جس سے پہلے قُلْ لکھا ہو تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ اسے آگے پہنچاتے چلے جانا میرا فرض ہے اور وہ خود عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی عمل کی نصیحت کرتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ تم یہ پیغام اپنے بعد کے لوگوں تک اور وہ اپنے بعد کے لوگوں تک پہنچا دیں۔اب اس حکمت کو دیکھ کر سمجھ لو کہ وہ لوگ کتنے دھوکے میں ہیں جو کہتے ہیں کہ قُلْ کا لفظ وحی میں کیوں رکھا گیا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کہنی تھی ان سے کہہ دی پھر قُلْ کا کیا فائدہ۔اگر یہ لفظ وحیٔ متلو میں شامل نہ کر دیا جاتا تو اعلان عام کی غرض فوت ہو جاتی اور غیر متناہی تبلیغ کا راستہ کبھی نہ کھلتا۔