تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 231
عبد اللہ کے نام کا نکلا۔آخر بڑھاتے بڑھاتے سو اونٹ پر جا کر قرعہ اونٹوں کے نام کا نکلا۔سبحان اللہ۔حضرت عبد اللہ محمد رسول اللہ ؐ کے والد بننے والے تھے۔فرشتے بھی اللہ تعالیٰ سے کہہ رہے ہوں گے ؎ نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز بہرحال اس فیصلہ پر مکہ والوں نے کہا لو اب’’تمہارا رب‘‘راضی ہو گیا ہے۔چنانچہ سو اونٹ ذبح کر دیئے گئے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ذکر حفر زمزم و جرٰی من الخلف فیھا) یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مکہ والے خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے۔اس کی نذریں مانتے تھے۔اس سے دعائیں کرتے تھے اور بتوں کو صرف اس کے تابع معبود سمجھتے تھے پس مکہ والوں کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتاکہ وہ بتوں کے پجاری تھے خدا تعالیٰ کے نہیں۔پس ان کا یہ کہنا کہ تم ہمارے بتوں کی پوجا کر لیا کروہم اللہ کی پوجا کر لیا کریں گے ایک احمقانہ مطالبہ تھا کیونکہ محمد رسول اللہ ؐ ان کے بتوں کو نہیں مانتے تھے مگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کو مانتے تھے۔پس ایسے احمقانہ مطالبہ پر کسی سورۃ کے نزول کی خواہش خلاف عقل تھی۔ہر مسلمان بچہ بھی اس کا جواب دے سکتا تھا۔تیسراسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سوا ل کے جواب میں ایک مکمل سورۃ اتر سکتی تھی؟ اس سوال کا جواب بھی یہ ہے کہ ہر گز نہیں۔کیونکہ اگر ہم اس سورۃ کو ان سوالوں کے جواب میں نازل شدہ مانیں تو اس سورۃ کی کوئی اہمیت ہی باقی نہیں رہتی۔تب اس سورۃ کا صرف اتنا مضمون بن جاتا ہے کہ اے کافرو!میں تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرتا تم میرے معبود کی عبادت نہیں کرتے۔تمہارا دین تمہارے ساتھ اور میرا دین میرے ساتھ۔قرآن جیسی اہم کتاب کی ایک سورۃ کو صرف اتنے سے مضمون کے لئے محدود کر دینا جو تمام معارف اور باریکیوں اور روحانی امور سے خالی ہو بہت ہی تنگ نظری کا ثبوت ہوگا۔قرآن کریم کی تو کوئی سورۃ بھی ایسی نہیں جو کہ لطیف اور وسیع معارف سے خالی ہو اور یہ مضمون جو ان روایتوں کی وجہ سے اس سورۃ کا بن جاتا ہے اوّل تو پامال مضمون ہے دوسرے نہایت محدود مضمون ہے اور اگر اس کو مختصر طور پر بیان کریں تو یہی بنتا ہے کہ جاؤ تم نے میر ی نہیں سنی میں تمہاری نہیں سنوں گا۔قرآن شریف کی تو کوئی آیت یا سورۃ ایسی نظر نہیں آتی جس میں اس قسم کا مضمون ہو۔وہاں تو ایک ایک لفظ کے نیچے سے معارف کے دریا بہتے چلے جاتے ہیں۔پس یہ روایتیں جس طرح اس سورۃ کے مضمون کو تنگ اور محدود کر دیتی ہیں اس کو دیکھ کر بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان روایتوں کے اند رمذکور سوالوں کے جواب میں کوئی سورۃ نازل نہیں ہو سکتی تھی۔بلکہ اگر اس سورۃ کو ان سوالوں کے جواب میں سمجھا جائے تو اس سورۃ کے وسیع مطالب بالکل چھپ جاتے ہیں