تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 228

جس کو شاید ایک نیم عقل آدمی بھی سن کر ہنس پڑے اور پوچھے کہ میاں تم دیتے کیا ہو اور مانگتے کیاہو؟ دیتے تو تم وہ چیز ہو جو پہلے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور مانگتے وہ ہو جس پر نہ تمہارا حق ہے نہ کسی اور کا حق ہے تو یہ صلح کیا ہوئی اور یہ فیصلہ کیا ہوا؟ غرض کفار کا مطالبہ جو ان حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے وہ ایسا خلاف عقل ہے اور ایسے امور کے متعلق ہے جن کا فیصلہ قرآن شریف میں پہلے سے ہو چکا تھا جس کی موجودگی میں کسی سورۃ کے اترنے کی ضرورت نہیں تھی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو الگ رہے آپ کے غلام بھی اس سوال کا جواب بڑی عمدگی سے دے سکتے تھے۔پس کفار نے مذکورہ بالا سوال کرنے کی ضرور حماقت کی ہو گی مگر اس حماقت کے جواب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہ کہا ہو گا کہ یہ ایک اہم سوال ہے میں خود اس کا جواب نہیں دے سکتا اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر جواب دوں گا۔اور نہ خدا تعالیٰ نے یہ خلاف عقل بات کی ہو گی کہ اس کے جواب میں ایک سورۃ نازل کر دی جس میں صرف وہ مضمون تھاجو چار سال سے مسلمانوں کی طرف سے پیش ہو رہا تھا اور جس کی تائید میں مسلمان مرد بھی اور مسلمان عورتیں بھی اور مسلمان آزاد بھی اور مسلمان غلام بھی یکے بعد دیگرے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے۔میرا اوپر کے مضمون سے یہ مطلب نہیں کہ کفار اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی رنگ میں کیا کرتے تھے جس میں کہ محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔اس رنگ میں تو نام نہاد مؤحد قومیں بھی عبادت نہیں کرتی تھیں۔مثلاً یہودی بھی اس رنگ میں عبادت نہیں کرتے تھے۔عیسائیوں میں سے مؤحد بھی اس رنگ میں عبادت نہیں کرتے تھے۔اسلامی طریق عبادت تو ایک نو ایجاد طریقہ ہے۔پہلے اس طریق کی عبادت دنیا میں کہیں نہیں تھی۔کیونکہ توحید ِ کامل کا نظریہ ہی اسلامی نظریہ ہے۔اس سے پہلے دنیا میں توحیدِ کامل پائی ہی نہیں جاتی تھی۔پس یہ ٹھیک ہے کہ مکہ کے لوگ خدا تعالیٰ کی اس شکل میں عبادت نہیں کرتے تھے جس شکل میں مسلمان کرتے تھے مگر وہ خدا تعالیٰ کی عبادت ضرور کرتے تھے۔مثلاً ان کے ہاں عبادت کا ایک ذریعہ نذر ماننا تھا۔قرآن کریم سے صاف ثابت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نذر مانا کرتے تھے چنانچہ سورۂ انعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآىِٕنَا۠١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰى شُرَكَآىِٕهِمْ١ؕ سَآءَ مَا يَحْكُمُوْنَ(الانعام:۱۳۷) یعنی کفار مکہ اپنی کھیتی اور اپنے جانوروں کے گلوں میں سے ایک حصہ اللہ کی نذر میں دے دیا کرتے ہیں اور یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا ہے اور کچھ حصہ معبودانِ باطل