تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 19

اسی طرح بخاری میں آتا ہے کہ ابو البشر نے ایک دفعہ حضرت سعید بن جبیر سے جو اعلیٰ درجہ کے تابعی اور علمِ حدیث کے بہت بڑے ماہر تھے کہا کہ فَاِنَّ نَاسًا یَزْعُـمُوْنَ اَنَّہُ نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ۔آپ توہمیں سنا رہے ہیں کہ وہ تمام اعلیٰ درجہ کی بھلائیاں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں ملیں ان کا نام کوثر ہے۔لیکن لوگ کہتے ہیں کہ کوثر جنت کی ایک نہر ہے یہ کیا بات ہے؟ سعید بن جبیر نے جواب دیا کہ اَلنَّـھْرُ الَّذِیْ فِی الْـجَنَّۃِ مِنَ الْـخَیْرِ الَّذِیْ اَعْطَاہُ اللہُ اِیّاہُ (بخاری کتاب التفسیر باب اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ) وہ نہر جو جنت میں آپ کو ملے گی وہ بھی تو اسی کا ایک حصہ ہے یعنی میںیہ نہیں کہتا کہ جنت کی وہ نہر جو آپ کو ملے گی کوثر نہیں۔بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ کوثر بہت سے ہیں اور یہ نہر بھی ان کا ایک حصہ ہے۔یہ روایت بھی میری تفسیر کے مطابق ہے اور بتاتی ہے کہ کوثر کے معنے نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ کے بے شک کئے جائیں مگر ان معنوں پر حصر نہیںکیا جا سکتا۔بلکہ وہ نہر بھی سورۂ کوثر والی کوثر کا ایک حصہ ہے جو تمثیل کے طور پر آپ کو عطا ہو گی۔پھر بخاری میں حضرت ابن عباس سے روایت آتی ہے کہ اَلْکَوْثَرُ الْـخَیْرُ الْکَثِیْـرُ کوثر کے معنےخیر کثیر کے ہیں۔ابو الفداء ابن کثیر اس پر لکھتے ہیں ھٰذَا التَّفْسِیْـرُ یَعُمُّ النَّـھْرَ وَ غَیْرَہُ۔ان معنوںمیں نہر اور اس کے علاوہ دوسری چیزیں بھی شامل ہیں۔لِاَنَّ الْکَوْثَرَ مِنَ الْکَثْرَۃِ وَ ھُوَ الْـخَیْـرُ الْکَثِیْـرُ۔کیونکہ کوثر کثرت سے نکلا ہے اور اس کے معنے خیر کثیر کے ہیں۔پھر کہتے ہیں وَمِنْ ذٰلِکَ النَّـھْرُ۔اس خیر کثیر میں سے ایک جنت والی نہر بھی ہے جو آپ کو خصوصیت کے ساتھ جنت میں ملے گی کَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَ عِکْرَمَۃُ وَ سَعِیْدُ ابْنُ جُبَیْـرٍ وَ مُـجَاھِدٌ وَمُـحَارِبٌ وَالْـحَسَنُ ابْنُ اَبِی الْـحَسَنِ الْبَصَـرِیِّ۔جیسے ابن عباس اور عکرمہ ؓ اور سعید بن جبیر اور مجاہد اور محارب اور حسن بن ابی الحسن بصری نےفرمایا ہے کہ کوثر سے مراد بہت سی بھلائیاں ہیں۔حَتّٰی قَالَ الْمُجَاھِدُ ھُوَ الْـخَیْـرُ الْکَثِیْرُ فِی الدُّنَیا وَ الْاٰخِرَۃِ۔مجاہد نے تو اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ کوثر کے معنے بہت بڑی بھلائی کے ہیں جو اس دنیا میں بھی آپ کو ملے گی اورآخرت میں بھی آپ کو ملے گی۔وَقَالَ عِکْرَمَۃُ ھُوَ النُّبُوَّۃُ وَالْقُرْاٰنُ و ثَوَابُ الْاٰخِرَۃِ( تفسیر ابن کثیر سورۃ الکوثر) اور عکرمہؓ کہتے ہیں کہ کوثر میں نبوت، قرآن کریم اور آخرت کا ثواب بھی شامل ہے۔گویا کوثرکے وسیع معنے ہیں اور انہیں محدود کرنا جائز نہیں اور جو معنے میں نے کئے ہیں ان میں میرے ساتھ صحابہ ؓ اور دوسرے تابعین بھی شامل ہیں یا یوں کہو کہ چونکہ انہوں نے وہ معنے پہلے کئے ہیں اس لئے میرے معنے ان کے موافق ہیں۔اگرچہ انہوں نے اور رنگ میں نتیجہ نکالا ہے اور میں نے اور رنگ میں۔میرے دلائل اور ہیں اور ان کے دلائل اور ہیں میں نے ان دلائل کو ردّ نہیں کیا بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل پیش کئے ہیں۔