تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 18
کا ایک تمثّل ہوں گی۔اس حقیقت کو قرآن کریم نے ایک اور مقام پر بھی واضح کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرَّحمٰن:۴۷) یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ایک جنت اسے اس دنیا میں ملے گی اوردوسری جنت اگلے جہان میں ملے گی۔یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ اگلے جہان میں اسی وقت کوئی چیز مل سکتی ہے جب اس جیسی کوئی چیز اس دنیا میں بھی ملے۔پھر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسـرآءیل:۷۳) جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو گا وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہو گا۔اس آیت میں اندھوں سے مراد اگر جسمانی اندھے لئے جائیں تب تو بڑے ظلم کی بات ہےکہ ایک شخص اگر پیدائشی اندھا ہے یا اس دنیا میں کسی بیماری کی وجہ سے ہی اندھا ہوا ہے تو اسے اگلے جہان میں بھی اندھا ہی رکھا جائے یہ معنے ہر گز درست نہیں۔اندھے سے مراد اس جگہ روحانی اندھا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اس دنیا میں روحانی لحاظ سے اندھے ہیں وہ اگلے جہان میں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کا قرب انہیں نصیب نہیں ہو گا۔اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ ہر وہ چیز جو اگلے جہان میں ملتی ہے اس کا اس جہان میں بھی ملنا ضروری ہے۔اس تشریح کو سامنے رکھتے ہوئے باآسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ جب جنت کی نعما ء اس دنیا کی روحانی نعما ء کی تمثیل ہوں گی تو ضرور ہے کہ کوثر کی بھی کوئی تمثیل ہو جو متشکل ہو کر اگلے جہان میں آپ کو نہر کی شکل میں عطا کی جائے جس طرح اس دنیا کا ایما ن اگلے جہان میںانگور کی شکل میں ملے گا اس دنیا کا روحانی علم جنت میں دودھ کی شکل میں ملے گا۔اسی طرح ماننا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جہان میں بھی کوئی ایسی ہی چیز ملے گی تبھی تو وہ اگلے جہان میں نہر کی شکل میں متمثل کر کے آپ کو دی جائے گی۔پس کوثر کے معنے اگر یہاں نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ کےکئے جائیں تو ہمیں ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بھی کوئی ایسی ہی چیز ملنے والی تھی جو اگلے جہان میں آپ کو نہر کی شکل میں متمثل ہو کر عطا کی جائے گی۔بہر حال صرف نہر والے معنوں پر کو ثر کا حصر نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ اس کا ثبوت صحابہ ؓ کے خیالات سے بھی ملتا ہے۔بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ سمجھی جاتی ہے حضرت ابن عباس ؓسے ایک روایت آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں قَـالَ فِی الْـکَـوْثَـرِ ھُـوَ الْــخَـیْــرُ الَّـذِیْ اَعْــطَاہُ اللہُ اِیَّـاہُ (بخاری کتاب التفسیر باب سورۃ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ) یعنی کوثر سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی بھلائیاں ہیں جو اس دنیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دی گئی تھیں۔دیکھو حضرت ابن عباس ؓ بھی تسلیم فرماتے ہیں کہ جو معنے میں نے اوپر کئے ہیں وہی درست ہیں۔جب دنیا میں آپ کو اس قسم کی کوئی چیز ملے گی تبھی وہ اگلے جہان میں نہر کی شکل میں متمثل ہوکر آپ کو عطا ہو گی۔