تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 218

یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ (النسآء:۵۲) وہ شیطان اور شیطانی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔اور یہ جو قرآنی استعمال ہے یہ بلاوجہ نہیں اس کے اندر بھی حکمت ہے۔چنانچہ ایمان کے لفظ میں گو ماننے کے معنے پائے جاتے ہیں لیکن اصل معنے اِیْـمَان کے امن دینے اور برکت دینے کے ہیں۔اور امن اور برکت اچھے لفظ ہیں۔پس چونکہ ابتدائی معنوں کے لحاظ سے یہ لفظ اچھا ہے اس لئے اکثر طور پر اسے اچھے ہی معنوں میں استعمال کیاجاتا ہے اورجب کوئی اس کے ساتھ قرینہ نہ ہو تو اس کے اچھے ہی معنے سمجھے جاتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں کفر کے معنے چھپا دینے کے ہیں اور چھپانے کا مفہوم اپنی ذات میں اچھا مفہوم نہیں ہوتا۔کیونکہ یہ برائی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ بالخاصہ اکثر برائی ہی چھپائی جاتی ہے۔پس جب تک کوئی خلاف قرینہ نہ ہو یہ لفظ اپنے اصلی معنوں کے لحاظ سے برے ہی معنوں میں سمجھاجائے گا ہاں قرینے کے ساتھ کبھی اس کے اچھے معنے بھی ہو جائیں گے۔پس لفظ ِ کُفر بغیر قرینے کے برا ہے اور لفظ ِ ایمان بغیر قرینہ کے اچھا ہے گو دونوں ہی بری یاا چھی نسبت کے ساتھ الٹ معنے بھی دے دیتے ہیں۔(الف)اس جگہ پر اَلْکَافِرُوْنَ کے معنے تمام مفسرین نے کفار مکہ کے کئے ہیں۔چنانچہ علامہ سیوطی نے دُرّ منثور میں ایسی روایات نقل کی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورۃ مکہ کے مشرکوں کے بعض سوالات کے جواب میں نازل ہوئی تھی۔علامہ شوکانی جو فتح القدیر کے مصنف ہیں وہ لکھتے ہیں کہ الف لام اس جگہ پر جنس کا آیا ہے یعنی تمام کافروں کی طرف اشارہ ہے لیکن مراد وہ کفار مکہ ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں کچھ سوالات کئے تھے اور جو کفر کی حالت میں مر ے۔علامہ ابن جریر بھی اپنی تفسیر جامع البیان میں یہی لکھتے ہیں کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ قُلْ یَا مُـحَمَّدُ لِـھٰٓـؤُلَٓاءِ الْمُشْـرِکِیْنَ الَّذِیْنَ سَاَلُوْکَ۔یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)ان مشرکوں سے جنہوں نے تجھ سے بعض سوالات کئے ہیں یوں کہہ دے۔تفسیر روح البیان میں شیخ اسمٰعیل حقی بروسوی لکھتے ہیں وَ ھُمْ کَفَرَۃٌ مَّـخْصُوْصَۃٌ۔اور وہ لوگ جن کا اس آیت میں ذکر ہے وہ ایک مخصوص جماعت کفار کی ہے جن کے متعلق یہ فیصلہ تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔پھر آگے لکھتے ہیں فَلَا یَرِدُ اَنَّ مُقْتَضٰی ھٰذَا الْاَمْرِ اَنْ یَّقُوْلَ کُلُّ مُسْلِمٍ ذٰلِکَ لِکُلِّ جَـمَاعَۃٍ مِّنَ الْکُفّارِ۔یعنی اس آیت کا مخصوص ہونا یہ لازمی نہیں قرار دیتا کہ ہم اس کا مخاطب ہر مسلمان کو نہ سمجھیں اور یہ نہ سمجھیں کہ ہرمسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر قسم کے کافر کو یہ بات کہہ دے۔(سورۃ الکافرون زیر آیت ا تا ۳)